ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرنڈر کرنے کیلئے تیار نہیں، ہمارا خون سستا نہیں ہے،  ہم اس جگہ کو ان کے لئے جہنم بنادیں گے، ہم انہیں اس طرح جانے نہیں دیں گے، وزیراعلیٰ

لیڈ (145 دہشت گردوں کی لاشیں)  قومیت کی نہیں  دہشت دہشتگردی  کی جنگ ہے سرفراز بگٹی

دہشتگرد بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ہم یہ جنگ ایک ہزار سال تک لڑیں گے، یہ ہزار حملے کرلیں، کہا جاتا ہے بلوچستان میں طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، دہشتگرد کی قوم اورنہ کوئی قبیلہ ہے، یہ ایک طرف بلوچ خواتین کو مارہے ہیں، دوسری طرف بلوچ خواتین کو اپنے ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں، 

ہمارے پاس دہشت گرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا، بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں جس سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں، یہ ہندوستان کی ایما پر ایسے واقعات کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان

 شیروں کی طرح دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اورانہیں ناکام بنایا۔ محسن نقوی کی  زخمی پولیس اہلکاروں کو داد. بلوچستان کے 12شہروں میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے، ان میں 2جگہ خواتین بھی ملوث پائی گئیں، کل پسنی میں بھی ایک خودکش حملہ آور نوجوان بچی پائی گئی ہے.وزیر دفاع خواجہ آصف

145 دہشت گردوں کی لاشیں موجود، یہ حق اور باطل کی جنگ، کبھی نہیں ہاریں گے: سرفراز بگٹی
کوئٹہ  ( ما نیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 145 دہشت گردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں، گوادر میں دہشت گردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا، یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرنڈر کرنے کیلئے تیار نہیں، ہمارا خون سستا نہیں ہے، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے، ہم اس جگہ کو ان کے لئے جہنم بنادیں گے، ہم انہیں اس طرح جانے نہیں دیں گے، بلوچستان میں طاقت کا استعمال تو کبھی ہوا ہی نہیں، یہ چھوٹے آپریشن ہیں جو کئے جاتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے دوٹوک کہا کہ یہ قومیت کی جنگ نہیں صرف دہشت کی جنگ ہے، دہشتگرد کوئی ایک یونین کونسل تک آزاد نہیں کرسکے، ہندوستان کے ایما پر بلوچوں کو ایندھن بنایا جارہا ہے، یہ ہندوستان کی سہولتکاری کرتے ہیں، یہ معصوم بلوچ عورتوں کے قتل وغارت میں مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ہم یہ جنگ ایک ہزار سال تک لڑیں گے، یہ ہزار حملے کرلیں، کہا جاتا ہے بلوچستان میں طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، بتائیں بلوچستان میں طاقت کا استعمال کب ہوا ہے؟ کوئی ایک گاؤں یا شہر کا نام بتائیں جس کو خالی کرایا گیا ہو؟ بلوچستان میں کبھی طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سوشل میڈیا کو پروپیگنڈا ٹولز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ہم یہ جنگ ہندوستان کی پراکسی سے لڑرہے ہیں، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے دہشتگردوں کو ان کے بلوں سے نکالیں گے، آج افغانستان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگرد کی قوم اورنہ کوئی قبیلہ ہے، یہ ایک طرف بلوچ خواتین کو مارہے ہیں، دوسری طرف بلوچ خواتین کو اپنے ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں، یہ صرف اورصرف دہشتگرد ہیں ان کو بلوچ نہیں کہنا چاہئے، ہمیں سیف سٹی سے بہت مدد ملی، دہشتگردوں نے سب سے پہلے سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بنایا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ شہر میں کل میں خود پھرتا رہا ہوں، یہ کوئٹہ میں ایک دو جگہ پر اپنے ساتھ گیارہ ،گیارہ سال کے بچوں کو لے کر آئے، انہوں نے بچوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کیا، دہشتگرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں، یہ حق اورباطل کی جنگ ہے اورپاکستان یہ جنگ کبھی نہیں ہارے گا۔

محسن نقوی، سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان کی سی ایم ایچ کوئٹہ میں زخمیوں کی عیادت
کوئٹہ: (  ویب نیوز  )
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کے بلند حوصلے کو بھی سراہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زخمی پولیس اہلکاروں کو داد دیتے ہوئے کہا آپ نے شیروں کی طرح دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اورانہیں ناکام بنایا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے زخمی اہلکاروں کی حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ناکام بنانے پر آپ کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں، آپ ہمارے شیر ہیں اور قوم آپ کے ساتھ ہے۔

زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ صحت یاب ہو کر دوبارہ اس فتنے کے خلاف لڑیں گے، ہمارے جذبے بلند اور عزم پختہ ہیں اور ہم نے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنا ہے۔

بی ایل اے کو بھارت سے فنڈنگ، عورتوں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے: خواجہ آصف
سیالکوٹ: (ویب نیوز  )

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، پچھلے دودن میں 100سے زائد دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، وطن عزیز ترقی کے سفر پر گامزن ہوچکا ہے، دہشتگرد ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، گرفتاردہشتگردوں کے بیانات ہندوستان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور بی وائے سی لاپتہ افراد کا بھی بیانیہ بناتی ہے، زیادہ تر لاپتہ افراد بی ایل اے سمیت دہشتگرد تنظیموں کے ارکان ہیں، یہ ٹوٹل فراڈ ہے صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، اب یہ چھوٹے بچوں اورخواتین کو بھی استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کل بلوچستان کے 12شہروں میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے، ان 12دہشتگردی کے واقعات میں 2جگہ خواتین بھی ملوث پائی گئیں، کل پسنی میں بھی ایک خودکش حملہ آور نوجوان بچی پائی گئی ہے، ہوسکتا ہے مارے گئے دہشتگردوں کی تعداد مزید بڑھے، ہمارے 11جوانوں کی شہادتیں ہوئیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اورافغانستان بی ایل اے اورٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں، ہم دہشتگردوں کے خلاف طویل جنگ لڑرہے ہیں، انشاءاللہ فتح پاکستان کی ہی ہوگی، ہم دہشتگردوں کو ضرور خاتمہ کریں گے، کوئی بھی پاکستان دشمن رعایت کی توقع نہ رکھے، دہشتگرد بلوچستان میں اپنے بے شمار ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بڑا رقبہ ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں کو بلوچستان میں کارروائی میں آسانی ہوتی ہے، سکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں، ان لوگوں نے انسانی حقوق کا بھی لبادہ اوڑھا ہوا ہے، بھارتی سہولت کاروں کو بھی وہیں پہنچائیں گے جہاں دہشتگردوں کو پہنچایا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے لوگ اپنی شخصیت کے محور سے نکل کر دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوں، یہ نہیں کہہ سکتا کہ سیاسی عناصر دہشتگردوں کی سہولتکاری میں ملوث ہوتے ہیں، اکثر سیاسی عناصر اپنی خاموشی اورمذمت نہ کرنے کی وجہ سے سہولتکار بن جاتے ہیں،دہشتگردی کیخلاف جنگ جیسے ون پوائنٹ ایجنڈے پر اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔