اچکزئی اور ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کے معالجین سے ملاقات کی تصدیق کر دی
اسلام آباد ( ویب نیوز )
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ناصر عباس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے با نی عمران خان کے معالجین سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کی تکلیف سے متعلق گفتگو کی تفصیلات شیئر کی ہیں،
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آگاہ کیا کہ عمران خان نے پہلے دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھنے میں دشواری کی شکایت کی تھی۔ تاہم علاج کے بعد ان کی بینائی میں بہتری آئی اور وہ گھڑی کی سوئیوں کو واضح طور پر دیکھنے کے قابل ہو گئے۔
دوسری جانب راجہ ناصر عباس نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے معالجین سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ملاقات کے دوران موجود تھے، تاہم طبی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ وہ طبی ماہر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کی تفصیلات اور نتائج محمود خان اچکزئی ہی شیئر کریں گے۔
یہ بیانات بانی پی ٹی آئی کی طبی جانچ اور علاج سے متعلق جاری خبروں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جنہیں پارٹی قیادت اور کارکنان کی جانب سے قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کی بیماری سے متعلق میڈیکل رپورٹ بھی اے آر وائی نیوز کو موصول ہوئی، جس میں 15 فروری 2026 کو ہونے والے میڈیکل بورڈ کے معائنے کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا اور بعد ازاں اسی روز رات 9 بجے سے 10 بج کر 20 منٹ تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پارٹی رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور راجہ ناصر عباس کو بریفنگ دی۔
عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی 25 منٹ سے زائد فون پر بریف کیا گیا۔ رہنماؤں اور ڈاکٹروں نے علاج کے منصوبے پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا۔
رپورٹ پروفیسر ندیم قریشی (سربراہ شعبہ ریٹینا، الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال) نے تیار کی جبکہ اس پر پروفیسر عارف خان (سربراہ شعبہ چشم، پمز) نے دستخط کیے۔
طبی نتائج کے مطابق بغیر چشمے کے دائیں آنکھ کی بصری صلاحیت 6/24 (جزوی) اور بائیں آنکھ کی 6/9 تھی، جو اصلاحی لینز کے استعمال سے بالترتیب 6/9 اور 6/6 تک بہتر ہو گئی۔ سلِٹ لیمپ معائنے میں دونوں آنکھوں کے اگلے حصے اور قرنیے صاف پائے گئے۔ ویٹریئس صاف تھا تاہم ہلکی دھند اور چند اندرونی دھبے موجود تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق دائیں آنکھ میں سرخی اور خون کی نالیوں میں پھیلاؤ دیکھا گیا، جبکہ چار سے پانچ کاٹن وول اسپاٹس بھی موجود تھے۔ بائیں آنکھ کی بینائی معمول کے مطابق رہی۔ متاثرہ آنکھ کی سوجن میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 (جزوی) ہو گئی ہے، جسے حوصلہ افزا قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ تجویز کردہ آئی ڈراپس، جن میں نیواناک، کوسوپٹ اور سسٹین الٹرا شامل ہیں، کا استعمال جاری رکھا جائے اور موجودہ علاج کا سلسلہ برقرار رکھا جائے۔