“مجتبیٰ کا اقتدار سنبھالنا دراصل وہی پرانا طریقہ ہے۔ امریکہ کے لیے یہ ایک بڑی سبکی ہے کہ اس نے اتنا بڑا آپریشن کیا، ایک 86 سالہ شخص کی جگہ سخت گیر بیٹے نے لے لی۔”

سپر (مجتبیٰ خامنہ ای)  ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر ( اسرائیل پر میزائل حملے)

مجتبیٰ خامنہ ای  ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ان حملوں میں ایران کے اندر ایندھن کے ذخائر اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا،

ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹوں کے دوران 4 امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی حملے میں تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔  قبل ازیں  200 امریکی فوجی ہلاک کا دعویٰ کیا تھا۔

تہران، مقبوضہ بیت المقدس: (ما نیٹرنگ ڈیسک )

ایران کی مذہبی قیادت نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے براہِ راست پیغام ہے، جنہوں نے مجتبیٰ کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے آغاز پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں مارے گئے تھے، جبکہ یہ تنازع اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو الیکس واتانکا کے مطابق:
“مجتبیٰ کا اقتدار سنبھالنا دراصل وہی پرانا طریقہ ہے۔ امریکہ کے لیے یہ ایک بڑی سبکی ہے کہ اس نے اتنا بڑا آپریشن کیا، اتنا خطرہ مول لیا اور آخرکار ایک 86 سالہ شخص کو ہلاک کیا، مگر اس کی جگہ اس کے سخت گیر بیٹے نے لے لی۔”

ایران کے پیچیدہ مذہبی و سیاسی نظام میں سپریم لیڈر کو حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف خارجہ پالیسی اور ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل اختیار رکھتا ہے بلکہ منتخب صدر اور پارلیمنٹ کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔

نیا رہنما اصلاح پسندوں کا مخالف

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک بااثر درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور طویل عرصے سے ان اصلاح پسند حلقوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو مغربی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کے حامی ہیں۔

ان کے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اور اعلیٰ مذہبی علما کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کے سیاسی اور سکیورٹی اداروں میں ان کا اثر و رسوخ کافی مضبوط ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنے والد کے دور میں سکیورٹی نظام اور اس کے زیرِ کنٹرول بڑے کاروباری نیٹ ورک میں ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھرے اور کئی برس تک علی خامنہ ای کے قریبی مشیر اور دربان کے طور پر کام کرتے رہے۔ اسی وجہ سے انہیں غیر رسمی طور پر “منی سپریم لیڈر” بھی کہا جاتا تھا۔

ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ان حملوں میں ایران کے اندر ایندھن کے ذخائر اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جواب میں ایرانی میزائل اور ڈرون خلیجی ریاستوں تک پہنچ چکے ہیں جس سے تنازع مزید پھیل گیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے قم کے مذہبی مدارس میں تعلیم حاصل کی، جو شیعہ دینی تعلیم کا مرکزی مرکز ہے، اور ان کے پاس حجۃ الاسلام کا مذہبی درجہ ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ نے 2019 میں مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کی تھیں، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ کسی سرکاری عہدے کے بغیر بھی سپریم لیڈر کے نمائندے کے طور پر عملی کردار ادا کرتے رہے۔

خلیجی خطے کے ایک ذریعے کے مطابق:
“مجتبیٰ کی تقرری واشنگٹن اور ٹرمپ کو یہ پیغام ہے کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا اور آخر تک مقابلہ کرے گا۔”

 ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر نئے میزائل حملے کر دیئے، اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہو گئی، حزب اللہ سے جھڑپوں میں شدت آ گئی، اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا جبکہ بحرین میں ڈرون حملے سے 32 افراد زخمی ہو گئے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ملک نے اپنے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ‌ ای کی قیادت میں پہلی بار سرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، میزائل کی تصویر بھی جاری کی گئی جس پر لکھا ہوا تھا ، ’’لبیک سید مجتبیٰ‘‘۔

اس سے پہلے مجلس خبرگان رہبری نے آیت اللہ خامنہ ای شہید کے بیٹے مجتبیٰ علی کو تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر متعارف کرایا اور مقرر کر دیا ہے، ایران کی سیاسی و عسکری قیادت نے نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا عہد بھی کیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے دو دن قبل تہران میں آئل ڈپو پر حملے کیے جس سے تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی، تیل بہنے سے سڑکوں پر بھی آگ پھیلتی نظر آئی۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے تیل کے ڈپو سے بہنے والا تیل شہر کے سیوریج نظام میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں سڑکوں کے کناروں پر آگ بھڑک اٹھی اور اسے مقامی طور پر آگ کی ندی قرار دیا جا رہا ہے۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق تنظیم نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے 7 تصاویر کی تصدیق کی ہے جن میں جنوبی لبنان کے رہائشی علاقے Yohmor پر وائٹ فاسفورس کے گولے فائر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں وائٹ فاسفورس کے گولے برسائے جبکہ 3 مارچ کو کیے گئے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو گھروں میں آگ بھڑک اٹھی۔

سپین اور جرمنی کے بعد سوئٹزرلینڈ نے بھی ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا، امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کرکے بین الاقوامی قانون کو توڑا ہے، تمام فریق سویلین آبادی کے تحفظ کیلئے لڑائی بند کردیں۔

سوئس وزیر دفاع فِسٹر کے مطابق فیڈرل کونسل کی رائے ہے کہ ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہمارے نزدیک یہ تشدد کی ممانعت کے قانون کی خلاف ورزی ہے، وہ ان تمام ممالک کا ذکر کر رہے ہیں جو تشدد کی ممانعت کی پاسداری نہیں کر رہے، بشمول امریکا اور اسرائیل۔

مشرقی لبنان میں اسرائیلی زمینی فوج داخل ہوگئی جس کے بعد لبنانی افواج سے جھڑپیں شروع ہوگئیں، اسرائیلی فوج ہیلی کاپٹر کے ذریعے مشرقی لبنان میں اتری۔

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا، اسرائیل نے دارالحکومت بیروت کے نواحی علاقے الغبیری پر حملے کیے جس میں کئی شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹوں کے دوران 4 امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی حملے میں تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹے کے دوران 200 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی کر نے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب

سعودی عرب نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو اس کے نتجے میں سب سے زیادہ نقصان خود تہران کو ہوگا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سعودی مملکت اور دیگر خلیجی، عرب اور اسلامی ممالک پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں گھناؤنا قرار دیا۔

بحرین میں ڈرون حملے

بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے ڈرون حملے کے نتیجے میں دارالحکومت کے قریب کم از کم 32 افراد زخمی ہوئے ہیں، تمام زخمیوں کا تعلق بحرین سے ہے، ان میں ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جس کے سر اور آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، سب سے کم عمر زخمی دو ماہ کا بچہ ہے۔

بحرین کی سرکاری ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں سے چار افراد کی حالت نازک ہے جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جنہیں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق بحرین کی بیپکو آئل ریفائنری پر بھی حملہ ہوا ہے، ریفائنری سے گہرے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔

عمان نے اسرائیل اور امریکا کی کارروائی غیراخلاقی اور غیرقانونی قرار دے دی

عمانی وزیرخارجہ نے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائی کو غیراخلاقی اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عمانی وزیر خارجہ نے ایران کی ہمسایوں کے خلاف جوابی کارروائی پر بھی اظہار افسوس کیا اور فریقین سے جنگ بندی کرکے سفارت کاری کی طرف لوٹنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششیں آگے بڑھ رہی تھیں، خطہ اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے کیونکہ فوجی کارروائیاں بڑھتی جارہی ہیں، لڑائی جاری رہی تو اس کے سنگین نتائج خطے کی سلامتی اور استحکام پر پڑیں گے، اس کے علاوہ اس سے سمندری راستے، سپلائی چین اور عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم

خلیجی ریاستوں میں ایران کی جانب سے جاری ڈرون حملوں کے تناظر میں امریکی محکمۂ خارجہ نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی گئی ہے۔

محکمۂ خارجہ نے اپنے شہریوں سے سعودی عرب کے سفر پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت بھی دہرائی ہے، اس کی وجوہات میں ایرانی حملے، مسلح تنازع، دہشتگردی، انخلا پر پابندی اور مقامی سوشل میڈیا قوانین بتائے گئے ہیں۔

ایران نے 1400 ڈرون حملے کیے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے حملوں میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں اور یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 1,400 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

سعودی عرب میں دو افراد ہلاک

سعودی عرب میں ایک رہائشی علاقے پر پروجیکٹائل گرنے سے دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی شہری دفاع نے تصدیق کی کہ سعودی عرب کے الخرج کمشنری میں ایک رہائشی علاقے پر ملٹری پورجیکٹائل گرنے سے دو افرد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں، مینٹینس اینڈ کلیننگ کمپنی کی ایک رہائشی سائٹ پر ملٹری پروجیکٹائل گرنے سے نقصان ہوا۔

پروجیکٹائل گرنے سے مرنے والوں میں انڈین اور بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں جبکہ متعدد بنگلہ دیشی زخمی ہوئے۔