ایران کے امریکی، اسرائیلی تنصیبات پر مزید حملے، تل ابیب میں دھماکے، 9 افراد زخمی

برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، جاپان اور کینیڈا کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کے لیے مدد کا پیغام جاری کر دیا۔

ایران کے امریکی، اسرائیلی تنصیبات پر مزید حملے، تل ابیب میں دھماکے، 9 افراد زخمی
تل ابیب: (ویب  نیوز) ایران نے امریکی اسرائیلی تنصیبات پر مزید حملے کردیئے۔

حیفہ اور اشدود ریفائنریز نصراللہ میزائل کا نشانہ بن گئیں، کویت کی مناء الاحمدی آئل ریفائنری پر ڈرونز سے حملے کئے گئے، آگ لگ گئی، کئی یونٹس عارضی طور پر بند کر دیئے گئے۔

سعودی عرب نے ڈرونز اور بحرین نے میزائل تباہ کرنے کا دعوی کردیا، بغداد میں ڈرون حملے کئے گئے، عراقی مزاحمتی گروہ کے وکٹری بیس اور اربیل میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کئے۔

واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے خطے میں امریکی افواج کے ٹھکانوں، ریڈار سسٹمز اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سری لنکا نے امریکی جنگی طیاروں کو اڈہ دینے سے انکار کردیا

سری لنکا نے امریکی جنگی طیاروں کو اڈہ دینے سے انکار کردیا

سری لنکن صدر نے کہا کہ امریکی طیاروں پر اینٹی شپ میزائل نصب تھے، انہیں جبوتی کے اڈے سے سری لنکا لانے کا منصوبہ تھا۔

صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے ایوان کو بتایا کہ ہم نے امریکی درخواست پر واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکا کے کئی اتحادی ممالک بھی ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر چکے ہیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکا کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد کو تیار

امریکا کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد کو تیار
whatsapp sharing buttonfacebook sharing button

بیان میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والے کوششوں میں حصہ ڈالنے پر آمادگی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

یہ مشترکہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے نیٹو ممالک کی جانب سے آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے میں واشنگٹن کی مدد سے انکار کو احمقانہ غلطی قرار دیا تھا۔

جاپان کے علاوہ اس مشترکہ بیان کے تمام دستخط کنندگان نیٹو کے رکن ممالک ہیں۔

ان ممالک نے تیل اور گیس کی تنصیبات سمیت تمام بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آبنائے ہرمز سے ہونے والی بین الاقوامی جہاز رانی میں ایران مداخلت بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششیں کیا ہوں گی۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں اطالوی وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے کہا کہ یہ جنگی مشن نہیں ہے۔

انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

دوسری طرف انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی او ایم) کا تین روزہ اجلاس آج ختم ہوگیا ہے، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے بھی مذاکرات جلد شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آئی او ایم کے سربراہ وکٹر جمنیز فرنانڈیز نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی تنظیم اگلے ہفتے ایران اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ گزر گاہ کے لیے ایک فریم ورک تلاش کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔

فرنانڈیز کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک ان مذاکرات سے باہر نہیں ہو گا، پورے خطے کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔