آئی ایم ایف صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف دینا چاہتا ہے، اس نے صوبوں سے وفاق کو تقریباً 2000 ارب روپے سرپلس دینے کا مطالبہ کیا، ایف بی آر کیلیے آئندہ مالی سال 15264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، دسمبر 2026 تک ایف بی آر کا ششماہی ہدف 7022 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال ٹیکس آڈٹ سے 95 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کا پلان ہے، چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد سیکٹر سے مزید 50 ارب روپے ریکوری کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے گیس اور بجلی نرخوں کا سال میں دو مرتبہ جائزہ لینے کی شرط برقرار ہے،

اسلام آباد (ما نیٹرنگ ڈیسک ) 
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو بجٹ 27-2026 میں نئے ٹیکسز لگانے کی یقین دہانی کروا دی۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات مکمل ہوگئے جس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے کا مشن واپس واشنگٹن روانہ ہوگیا، دونوں کے درمیان وفاقی اور صوبائی سطح پر 1100 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات اور نئے ٹیکز لگانے پر اتفاق ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں 370 ارب روپے جبکہ صوبوں نے 430 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات اور نئے ٹیکسز لگانے کی یقین دہائی کروائی، بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے چند نکات پر مزید ڈیٹا شیئرنگ کی جانی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے یکم جولائی سے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے یکم جولائی سے الیکٹرک وہیکلز پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف دینا چاہتا ہے، اس نے صوبوں سے وفاق کو تقریباً 2000 ارب روپے سرپلس دینے کا مطالبہ کیا، ایف بی آر کیلیے آئندہ مالی سال 15264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، دسمبر 2026 تک ایف بی آر کا ششماہی ہدف 7022 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ آئندہ مالی سال ٹیکس آڈٹ سے 95 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کا پلان ہے، چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد سیکٹر سے مزید 50 ارب روپے ریکوری کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے گیس اور بجلی نرخوں کا سال میں دو مرتبہ جائزہ لینے کی شرط برقرار ہے، اسپیشل اکنامک زونز کیلیے نئی ٹیکس چھوٹ نہ دینے کی سفارش ہے۔

’خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس آئندہ مالی سال کیلیے لیوی کی مد میں 262 ارب روپے کا اضافہ طلب کر لیا ہے۔ رواں مالی سال پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا ہدف 1468 ارب تھا جو آئندہ مالی سال 1730 ارب روپے رکھے جانے کا مطالبہ ہے۔‘

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی ڈھائی روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لٹر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔