٤…4..(  پی ٹی آئی فارورڈ بلاک مسترد)  داخلی اختلافات موجود ،کوئی منظم گروہ نہیں. بیرسٹر گوہر 

این ایف سی ایوارڈ  پر متحدہ موقف اختیار کریں اور امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس مطالبے کی حمایت کریں گے۔

وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی گروپ  سرگرم نہیں ہے   ۔سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا مکمل اعتماد اور حمایت حاصل ہے. میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (  خصوصی  رپورٹر)

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بعض داخلی اختلافات موجود ہیں، تاہم کوئی منظم گروہ ایسا نہیں جو پارٹی قیادت یا خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف کام کر رہا ہو۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے تحفظات، خصوصاً گورننس اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مسائل، دور کرنے کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت مکالمے کے ذریعے ان تحفظات کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فارورڈ بلاک سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ایسا کوئی گروپ موجود نہیں اور نہ ہی مبینہ فارورڈ بلاک خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے خلاف سرگرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا مکمل اعتماد اور حمایت حاصل ہے اور جب تک یہ اعتماد برقرار ہے، وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سہیل آفریدی کو خود عمران خان نے نامزد کیا تھا اور تمام پارٹی اراکین ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کے اندر موجود کسی بھی اختلاف کو مشاورت اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا کے جائز مالی حصے کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر متحدہ موقف اختیار کریں اور امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس مطالبے کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ عوامی مفاد کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔

وفاقی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے پیش گوئی کی کہ آنے والا بجٹ عوام کے لیے مایوس کن ثابت ہوگا، کیونکہ حکومت کے پاس ریلیف کے حوالے سے کوئی مؤثر منصوبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بجٹ میں بامعنی ریلیف کی توقع تھی، لیکن اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے روپے کی قدر میں کمی اور غلط معاشی پالیسیوں کو عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیا، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں مؤثر اصلاحات نہ لانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت اخراجات میں کمی اور مؤثر کفایت شعاری کی پالیسی نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عوام پہلے ہی بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے، تاہم آنے والے بجٹ میں کسی بڑے عوامی ریلیف پیکج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔