دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔  سیاسی و عسکری قیادت کا اسلام آباد مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم

لیڈ (امریکا ایران مذاکرات)  سخت سکیورٹی ، ریڈ زون فوج تعینات

ایران  کے سپیکر محمد باقر قالیباف جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد مذاکرات میں حصہ لے گا۔

ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔

ایران، امریکا مذاکرات کیلئے سخت سکیورٹی انتظامات، ریڈ زون فوج کے حوالے
whatsapp sharing button

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد مذاکرات میں حصہ لے گا۔

اس موقع پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا جا رہا ہے، ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود پھیلا کر زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک کے علاقے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔

ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو بھی واقع ہے جہاں مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔

سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔

جڑواں شہروں میں تعطیل کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی۔

اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئر پورٹ سے ہوٹل کی طرف جائیں گے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں کیا جانے والے احتجاجی جلسہ کو منسوخ کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاجی جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے مطابق پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹا ہونے پر پابندی ہے۔

خیال رہے کہ اس مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے انٹرنیشنل میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں، مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں، مذاکراتی عمل کی کوریج کے حوالے سے کنونشن سینٹر یا پاک چائنہ سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عسکری اور سول قیادت نے شرکت کی، اجلاس میں اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی، مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد مذاکرات کو کامیاب بنانے کا عزم کیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ جنگ بندی پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے، امن کا یہ موقع ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق شرکاء نے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا۔

قبل ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے استقبال کیا اور انہیں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مبارک باد دی۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا اور کابینہ فیصلے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ، اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہمراہ تھے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام نے مذاکرات کے مقام کا دورہ کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی اور سکورٹی حکام بھی ہمراہ تھے، مذاکرات کے انتظامات کا جائزہ لیا۔