ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کی زمین یا سہولیات کو ایران کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال کیا گیا تو خلیجی ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی. انہیں مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ میجر جنرل مجید موسوی
لیڈ (جنگ بندی میں توسیع ) آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی. ٹرمپ ( ایران کے خلاف حملہ مؤخر)
جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ صدر ٹرمپ
امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر، میڈیا نمائندگان کو بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

واشنگٹن: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا، جبکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔
.jpg)
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں۔
امریکا نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا، ایران اسے کھولنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
بعدازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور ایران دراصل اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ یومیہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی دوبارہ حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے کھلا رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے وہ روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کماتا ہے۔
.jpg)
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران محض اپنی ساکھ بچانے کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش کی بات کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے، چند روز قبل بعض افراد نے مجھ سے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران فوری طور پر آبنائے کو کھولنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولا گیا تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی گنجائش نہیں رہے گی، جب تک کہ ہم ان کی قیادت سمیت پورے ملک کو تباہ نہ کر دیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کیلئے پاکستان نہیں آئیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اس بیان سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوگیا ہے، تاہم اس حوالے امریکی حکام کی جانب سے میڈیا نمائندگان کو بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب بھی مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، ایران اس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

ترجمان کے مطابق ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور سو فیصد تیاری کی حالت میں ہیں اور ہر وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایرانی فورسز فوری اور بھرپور انداز میں پہلے سے مقرر کردہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان کے حکام کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی حملے کیلئے خطے کے ہمسایہ ممالک کی سر زمین یا تنصیبات استعمال کی گئیں تو مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی آر جی سی کے ایرو اسپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے ایرانی ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں کہا کہ ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ان کی زمین یا سہولیات کو ایران کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال کیا گیا تو انہیں مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ کسی بھی مرحلے پر دشمن نے معمولی سی بھی غلطی کی اور ایران پر حملہ کیا تو جہاں بھی ایرانی عوام کہیں گے، وہی ہماری کارروائی کا ہدف ہوگا۔
ایرانی عہدیدار کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





