ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز پیش کر دی ہیں جن میں جوہری مذاکرات کو  دوسرے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔  تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے

لیڈ (امریکہ ایران  کشیدگی )  نئی تجاویز امریکا کو موصول ( ٹرمپ نے اہم اجلاس طلب کرلیا )

ذرائع کے مطابق ٹرمپ آج ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں مذاکراتی تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا، نئی ایرانی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہے،

 روسی صدر پیوٹن سے ملاقات جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کا ایک اہم موقع ہوگی،  آج ہونے والی ملاقات میں جنگ کی تازہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی میڈیا سے گفتگو 

ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز امریکا کو موصول
whatsapp sharing button

امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے اور ایرانی قیادت کے اندر اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق کس حد تک رعایت دی جائے۔

ایرانی تجویز کا مقصد اس حساس معاملے کو فی الحال پس پشت ڈال کر فوری طور پر کسی معاہدے تک پہنچنا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ناکہ بندی ختم ہو جاتی ہے اور جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی وہ اہم سفارتی برتری کھو سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے اور یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ آج ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں مذاکراتی تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا، نئی ایرانی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہے، اس میں پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے پر توجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

اس کے تحت یا تو جنگ بندی کو طویل مدت کیلئے بڑھایا جائے گا یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں شروع کیے جائیں گے، وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکا اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں۔

پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا، حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا: عراقچی

پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا، حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا: عراقچی

ایرانی میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ روسی صدر پیوٹن سے ملاقات جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کا ایک اہم موقع ہوگی، دورہ تہران اور ماسکو کے درمیان قریبی مشاورت کو جاری رکھنے کے لیے ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی ملاقات میں جنگ کی تازہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حالیہ دورہ پاکستان بھی نہایت مفید رہا، پاکستان سے ممکنہ مذاکرات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، اسلام آباد میں ماضی کے واقعات اور موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔

ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل میں بعض مقامات پر پیش رفت کے باوجود امریکہ کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات کا گذشتہ دور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، اس لیے موجودہ صورتحال پر پاکستان میں دوستوں کے ساتھ مشاورت ناگزیر تھی۔

انہوں نے اپنے اس بیان میں کہا کہ پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں ماضی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کن حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ عمانی حکام سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم مشاورت کی گئی، ایران اور عمان اہم آبی گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطے قریبی رابطہ ضروری سمجھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی موجود ہے، ایران اور عمان نے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔