صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں پاکستان شاندار رہا ہے، اور اُن کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت بھی شاندار رہی،  اُنہوں نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی درخواست کی تھی۔ واشنگٹن میں  صدر ٹرمپ کی گفتگو 

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوج نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحریہ کے تین جہازوں پر ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج پر حملے کی ذمہ دار ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، امریکی افواج نے بلااشتعال ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

دوسری طرف ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ملک کی مسلح افواج نے آبنائے میں واقع جزیرہ قشم پر دشمن کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، خلیج فارس میں واقع یہ ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افراد آباد ہیں، یہاں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی موجود ہے۔

پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا: ٹرمپ
whatsapp sharing button

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ بیان آبنائے ہرمز میں دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں پاکستان شاندار رہا ہے، اور اُن کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت بھی شاندار رہی، اُنہوں نے ہم سے کہا کہ ہم یہ کارروائی نہ کریں، اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ اس طرف جائیں گے، اُنہوں نے مذاکرات کے دوران ہم سے یہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران نے تین امریکی ڈسٹرائرز پر حملہ کیا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق اس نے جواب میں ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کا آغاز واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا۔

تازہ کشیدگی نے اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو آٹھ اپریل سے نافذ العمل ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کئی ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، آج انہوں نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، ہم نے انہیں اڑا کر رکھ دیا، انہوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی، میں اسے ایک معمولی بات کہتا ہوں۔

امریکی صدر کا اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہنا تھا کہ گولہ باری کے باوجود تین عالمی معیار کے امریکی ڈسٹرائرز انتہائی کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے ابھی باہر نکلے ہیں، ان تینوں ڈسٹرائرز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بہت سی چھوٹی کشتیوں سمیت مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ان کشتیوں کو ایران کی مکمل طور پر مفلوج بحریہ کی جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوج نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحریہ کے تین جہازوں پر ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج پر حملے کی ذمہ دار ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، امریکی افواج نے بلااشتعال ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

دوسری طرف ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ملک کی مسلح افواج نے آبنائے میں واقع جزیرہ قشم پر دشمن کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، خلیج فارس میں واقع یہ ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افراد آباد ہیں، یہاں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی موجود ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے مغربی تہران میں بھی زور دار آوازیں سنائی دینے اور دفاعی فائرنگ کی اطلاع دی، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم کے مطابق، جنوبی ایران میں بندر عباس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، رپورٹس میں ان دھماکوں کی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔