آئندہ مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر۔ آئندہ مالی سال کیلئے مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.2 فیصد، زراعت کیلئے شرح نمو 3.6 فیصد اور خدمات کے شعبے کیلئے 4.2 فیصد شرح نمو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔l
لیڈ (اقتصادی کونسل اجلاس) صوبائی ترقیاتی بجٹ میں نما یا ں کٹوکی
این ای سی نے بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کرلیا، قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی، پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب کر دیا گیا۔
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.2 فیصد، زراعت کیلئے شرح نمو 3.6 فیصد اور خدمات کے شعبے کیلئے 4.2 فیصد شرح نمو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 سے کم کر کے 706 ارب روپے کر دیا گیا، کے پی کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3138 سے کم کر کے 2218 ارب روپے کر دیا گیا۔
اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر ) قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے قومی ترقیاتی بجٹ سمیت وفاقی اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں ملکی معیشت، جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، دفاعی تقاضوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزراء، تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مالی سال 26-2025 کے ترقیاتی بجٹ پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگز اور پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں۔
.jpg)
اجلاس کے شرکاء کو یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی کارکردگی رپورٹ سے آگاہ کیا گیا جبکہ اسی مدت کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کی ای سی این ای سی (ایکنک) سے حاصل ہونے والی منظوریوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔
این ای سی نے صوبے کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کرلیا، قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی، پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب کر دیا گیا۔
سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 سے کم کر کے 706 ارب روپے کر دیا گیا، کے پی کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3138 سے کم کر کے 2218 ارب روپے کر دیا گیا۔
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.2 فیصد، زراعت کیلئے شرح نمو 3.6 فیصد اور خدمات کے شعبے کیلئے 4.2 فیصد شرح نمو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب صحت کے باعث نیشنل اکنامک کونسل (NEC) اجلاس میں شرکت نہ کر سکیں، سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں پنجاب کی نمائندگی کی۔
مریم اورنگزیب نے اجلاس میں پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی، پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں، ترجیحات اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر بریفنگ پیش کی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی عدم موجودگی میں سینئر وزیر نے صوبے کا مؤقف قومی فورم پر پیش کیا، نیشنل اکنامک کونسل اجلاس میں صوبائی ترقیاتی پروگراموں اور قومی ترقیاتی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معاشی چیلنجز کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا انہوں نے زور دیا کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، برآمدات کو فروغ دینا اور معیشت کو مستحکم بنانا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
.jpg)
انہوں نے بتایا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں ایندھن کے حصول کے لیے پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگیں لیکن بروقت حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان میں تیل اور ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار رہی۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں، ان کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور سکیورٹی فورسز کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا، انہوں نے کہا کہ دیرپا معاشی استحکام کے لیے مختلف اقتصادی شعبوں کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اس اجلاس میں آئندہ مالی سال 27-2026 کے قومی ترقیاتی بجٹ اور وفاقی و صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔





