"آج عوام کے جذبات، آنسوؤں اور بھرپور شرکت میں جو منظر دکھائی دے رہا ہے، وہ ایرانی قوم اور دنیا کے آزاد لوگوں کے دلوں میں رہبر کے مقام کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔” صدر مسعود پزشکیان
لیڈ (آیت اللہ علی خامنہ ای) کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی( 70 سے زائد غیر ملکی وفود شریک )
ایران کے شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز ادا کر دی گئی۔ یہ وسیع پیمانے پر جاری آخری رسومات کا تیسرا دن تھا، جس میں ایرانی دارالحکومت تہران میں غیر معمولی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت، جس پر ان کی سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا، اسٹیج کے سامنے رکھا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کے تابوت بھی موجود تھے، صرف تہران میں ان آخری رسومات میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔
تهران ( ما نیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز ادا کر دی گئی۔ یہ وسیع پیمانے پر جاری آخری رسومات کا تیسرا دن تھا، جس میں ایرانی دارالحکومت تہران میں غیر معمولی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ تین مرحلوں میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں شہید رہبرِ انقلاب کے لیے نماز جنازہ پڑھی گئی۔ دوسرے مرحلے میں شہیدہ سیدہ بشریٰ حسینی خامنہ ای، شہید مصباح الہدیٰ باقری اور شہیدہ زہرا حداد عادل کے لیے نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ تیسرے مرحلے میں شہید رہبرِ انقلاب کی پوتی زہرا محمدی گلپایگانی کے لیے نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
ہفتے کی صبح تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد الوداعی تقریب کا آغاز ہوا، جہاں لاکھوں سوگوار اپنے قائد کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
جنازے کے جلوس منگل کے روز مقدس شہر قم اور جمعرات کو مشہد میں نکالے جائیں گے، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کو روضۂ امام رضاؑ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
اتوار کو ایران بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، جبکہ شام کے وقت آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس سے روانہ کیا جائے گا تاکہ پیر کے روز تہران میں ہونے والے جنازے کے جلوس کی تیاری کی جا سکے۔
ہفتے کے روز اسلامی جمہوریہ ایران کے حامی لاکھوں افراد نے عوامی آخری رسومات کے آغاز پر شرکت کی۔ حکام کے مطابق ان تقریبات کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد قومی استقامت اور مزاحمت کا پیغام دینا ہے۔
سیاہ لباس میں ملبوس اور انتقام و انصاف کی علامت سرخ پرچم لہراتے سوگوار سینہ کوبی کرتے رہے، جبکہ "امریکہ مردہ باد” اور "انتقام، انتقام” کے نعرے فضا میں گونجتے رہے۔
38 سالہ عالمِ دین محمد میرصالحی نے کہا ہے "رہبر ہم سب کے لیے ایک باپ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی رحلت کے بعد ہم سب خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔”
آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت، جس پر ان کی سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا، اسٹیج کے سامنے رکھا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کے تابوت بھی موجود تھے، جو 28 فروری کے حملوں میں شہید ہوئے تھے، جن میں ان کی شیر خوار پوتی بھی شامل تھی۔
حکام کا اندازہ ہے کہ صرف تہران میں ان آخری رسومات میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔
پانچ ہفتوں تک جاری شدید جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے باعث وقتی سکون ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ لڑائی شروع کی جا سکتی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو بیرونِ ایران بھی حکومت کے لیے عوامی حمایت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ جنگ سے قبل جنوری میں ہونے والے بڑے عوامی احتجاج کو انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق سخت کارروائی کے ذریعے دبایا گیا تھا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا:
"آج عوام کے جذبات، آنسوؤں اور بھرپور شرکت میں جو منظر دکھائی دے رہا ہے، وہ ایرانی قوم اور دنیا کے آزاد لوگوں کے دلوں میں رہبر کے مقام کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔” انہوں نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے والا عنصر قرار دیتے ہوئے کہا:”مسلمانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ظلم اور دھونس کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔”
آیت اللہ علی خامنہ ای نے طویل عرصے تک مغرب کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے رکھا، جبکہ ایران کئی برسوں سے امریکہ اور اسرائیل مخالف مسلح گروہوں، جن میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان کی حزب اللہ شامل ہیں، کی حمایت کرتا رہا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز دونوں تنظیموں کے وفود نے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جبکہ یمن کے حوثی نمائندے اور فلسطینی تنظیم اسلامک جہاد کے وفود بھی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔
پیر کے روز تہران میں مرکزی جنازے کے جلوس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کو منگل کو قم، بدھ کو پڑوسی ملک عراق اور پھر جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای اور امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مسلط کردہ جارحیت میں ان کے ساتھ شہید ہونے والے دیگر افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے عصر حاضر کی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردانہ کارروائی کا ارتکاب کیا ہے۔
جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حملے کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ یہ تاریخی یادگاری تقریب دوست عرب ممالک کے نمائندوں کی شرکت سے مزید اہمیت اختیار کر گئی۔
عباس عراقچی کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ یہ موقع خطے کے ممالک کے مشترکہ تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔








