وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے . ٹیلی فونک گفتگو

لیڈ (شہباز شریف ولی عہد رابطہ)  حوثی حملے ناقابلِ قبول ہیں(  وزیراعظم شہباز شریف)

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کے ہمراہ، اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت   ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، بحری آمد و رفت کی آزادی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: ( خصوصی رپورٹر ) وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں آئل ٹینکروں پر حوثی حملوں کی مذمت کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، بحری آمد و رفت کی آزادی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کے ہمراہ، اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے ۔

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز سمیت خطے میں قانونی بحری تجارت کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر ) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران امریکا مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

یورپی یونین رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔