مریکی صدر نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعے کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی، امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس
spr(ایران امریکہ فا یر بندی) پیٹریاٹ میزائلوں میں کمی رکاوٹ
جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو مشرق وسطی میں دفاعی نظام متاثر ہونے سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز
ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔ امریکا سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے، اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں، یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ترجمان ایرانی فوج 

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس کے مطابق مریکی صدر نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعے کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی، اس کے ساتھ ہی تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ حملوں کا سلسلہ رک گیا۔
خیال رہے کہ 13 دنوں بعد جمعہ کی رات پہلی رات تھی جب امریکا نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا، جبکہ ہفتے کی رات بھی کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو مشرق وسطی میں دفاعی نظام متاثر ہونے سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق جنگ میں شدت آنے کی صورت میں پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہوں گے، ایران جنگ میں شدت سے دیگر فضائی دفاعی نظام کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو سکتے ہیں، تاہم فوج تمام احکامات پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن نتائج پر بھی غور ضروری ہے۔
سی این این کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کشیدگی بڑھانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف ذرائع کے مطابق عمانی وفد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے نئے انتظامات پر بات چیت کیلئے تہران پہنچا تھا، مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام تک معاہدہ طے پا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی تمام آپشنز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو (ڈونلڈ ٹرمپ) اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی معیشت کو مفلوج کر دینے والی کامیاب پابندیوں اور اس کی بار بار کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں فوجی اہداف پر 13 روز تک مسلسل حملوں کے بعد دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کا رخ کرے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ کو اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں کے رکنے کے بعد اس کی افواج نے اپنی کارروائیاں بھی بند کر دی ہیں۔
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکا نے دو راتوں کے دوران اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے؟ ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ امریکا سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے، اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں، یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز تھے، تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔
جنرل اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید وسیع حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے، دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی اس فیصلے کی وجوہات میں شامل ہے۔
علاوہ ازیں ترجمان ایرانی فوج جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز اور ایران کو کمزور کرنے کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، موجودہ صورتحال امریکا کے لیے انتشار اور ناکامی کی عکاس ہے۔







