spr (کبل خودکش دھماکہ) 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شہید
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بھی سیدو شریف اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی شہید 7 پولیس اہل کاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی، حملے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد شہید ہوئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا، جبکہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر بھی ملا ہے، بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے بارودی مواد کا جائزہ لے رہا ہے، سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

سوات ( ما نیٹرنگ ڈیسک ) سوات کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی قائم کردی گئی، خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی، مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے سیدو شریف اسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی کا خدشہ موجود تھا جس کے باعث سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، پولیس جوانوں نے خودکش حملہ آور کو روکا، جس پر دھماکا ہوا۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بھی سیدو شریف اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔
اس سے قبل سوات دھماکے میں شہید 7 پولیس اہل کاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی، حملے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد شہید ہوئے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے سوات خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اعلامیے میں کہا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور بےگناہ افراد کا قتل حرام ہے، دہشت گرد عناصر فتنۂ خوارج کی فکر کے پیروکار ہیں۔ سوات میں تھانہ کبل کے قریب فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شہید جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق کبل خودکش دھماکے میں زخمی پولیس کانسٹیبل مکرم خان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، مکرم خان زخمی ہونے کے بعد سیدوشریف ہسپتال میں زیر علاج تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا، جبکہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر بھی ملا ہے، بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے بارودی مواد کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب سوات دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
علاوہ ازیں کبل میں خودکش حملے میں شہید ہونے والے 5 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
پولیس ٹریننگ سکول سوات میں ہونے والی تقریب میں شہداء کو سلامی پیش کی گئی جبکہ نمازِ جنازہ میں اعلیٰ پولیس حکام، سول انتظامیہ، پاک فوج کے افسران، صوبائی وزیر اور شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
پولیس کے چاق و چوبند دستے نے اے ایس آئی ہاشم خان سمیت پانچوں شہداء کو سلامی پیش کی، ان کی میتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور ملکی سلامتی کیلئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کی میتیں تدفین کیلئے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔





