صنعتی ترقی کے لیے یکساں ٹیرف یونا چاہیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ماہرین کی تجویز

پاکستان میں گاڑیوں کی سست پیداوار اور منہگائی ختم کرنے کے لیے ریٹیل سیلز ماڈل اور پرفارمنس پر مبنی مراعات کا مطالبہ: پائڈ رپورٹ

اسلام آباد (ویب  نیوز):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے پاکستان کی آنے والی ‘آٹو موبائل پالیسی 2026-2031’ کے حوالے سے ایک اہم اسٹیک ہولڈرز مشاورتی گول میز اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں پالیسی سازوں، صنعت کاروں، اور معاشی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد آٹو موبائل سیکٹر کی ساختی اصلاحات، ٹیرف کی بہتری، اور صنعتی تحفظ کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کی تشکیل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ یہ اجلاس پائڈ (PIDE) کے سینٹر فار انڈسٹری، کامرس اینڈ ڈیجیٹل ایکانمی (CICDE) اور سینٹر فار گورننس، مارکیٹس اینڈ ریگولیٹری اینالسز (CGMRA) کی مشترکہ دستاویز "شِفٹنگ گیٔرز: پاکستان کی اگلی آٹو موبائل پالیسی کی تشکیل” کی روشنی میں منعقد کیا گیا۔پائڈ کے سینئر ریسرچ اکانومسٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان قدیر نے تحقیق کی روشنی میں بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک میں گاڑیوں کی سالانہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور 15 سے زائد اسمبلرز متحرک ہیں، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں کی پیداواری مقدار، عوامی قدرِ خرید اور مقامی پرزہ جات (وینڈر) کی تیاری میں توقع کے مطابق پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ڈاکٹر عثمان قدیر نے زور دیا کہ نئی پالیسی میں گاڑیوں کی فروخت کے لیے ریٹیل سیلز ماڈل اپنایا جائے، وینڈرز کو نئی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا پابند بنایا جائے اور تمام تر سرکاری مراعات و رعایتوں کو کارکردگی کے واضح نتائج سے مشروط کیا جائے۔ٹیکنو آٹو گلاس کے سی ای او اور پاپام (PAAPAM) کے سابق صدر عامر الہٰ واللہ نے نشاندہی کی کہ گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز، سیکیورٹی خدشات اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی نے انڈسٹری کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی پالیسی کا مسودہ حتمی منظوری سے قبل عوام اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے لیے پیش کیا جائے۔نیشنل ٹیرف کمیشن کی سابق چیٔرپرسن ڈاکٹر روبینہ اطہر نے کہا کہ ‘نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-2030’ کا مقصد پوری معیشت میں درآمذی ڈیوٹی کو متوازن بنانا ہے۔ آٹو سیکٹر میں صرف ٹیرف ہی واحد مسئلہ نہیں بلکہ تمام ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ اجلاس کے آغاز میں ڈائریکٹر میکر و پالیسی لیب ڈاکٹر شہزادہ نعیم نواز نے افتتاحی کلمات ادا کیے جبکہ محمد شافع نجیب نے بطور ناظم سیشن کی میزبانی کی۔ تمام شرکاء نے آٹو انڈسٹری کے مستقبل کے لیے پائڈ کی اس مشاورتی کاوش کی تعریف کی۔

#S