پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر اہم پیش رفت، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔
لیڈ ( پی ٹی آئی لانگ مارچ) لارجر بینچ تشکیل، چیف سیکرٹریز طلب
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے معاملے پر سماعت کے لیے لارجر بنچ تشکیل دیا، لارجر بینچ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں، لارجر بینچ 10 ستمبر کو اہم کیس کی سماعت کرے گا۔ چیف سیکرٹرییز ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا۔
آئین اور قانون کے تحت حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتجاج پر مناسب پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سرکاری مشینری کے استعمال کا خدشہ موجود ہے، اس موقع پر وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ درخواست گذارکا وکیل کا موقف
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ اس دوراں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے معاملے پر سماعت کے لیے لارجر بنچ تشکیل دیا، لارجر بینچ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں، لارجر بینچ 10 ستمبر کو اہم کیس کی سماعت کرے گا۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، دس ستمبر کو چاروں صوبوں کے آئی جیز، ایڈوکیٹ جنرلز، چیف سیکرٹرییز کو نوٹس جاری کیے گئےاور ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اسلام آباد میں کاروبار کرنے والے تاجر ہیں اور پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کو اسلام آباد لانے کے اعلان کے باعث وہ اور دیگر شہری متاثر ہو سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس طرح متاثرہ فریق ہیں، وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج اسلام آباد میں لانے کا منصوبہ ہے، جس سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احتجاج سے متعلق مختلف بیانات اور اخباری تراشے عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افراد کے متعدد معاملات پہلے ہی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر زیرِ التوا مقدمات کی بنیاد پر سڑکوں پر احتجاج کو جواز بنایا جائے تو ملک بھر کے دیگر مقدمات کے فریقین بھی اسی راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
وکیل نے 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دوران اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی اور 3 رینجرز اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ اخباری رپورٹس کے مطابق احتجاج کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔
ان کا مؤقف تھا کہ احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں اور عدالتوں پر دباؤ ڈالنا قابلِ قبول نہیں، سماعت کے دوران اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانونی شقیں بھی عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔
وکیل نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتجاج پر مناسب پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالتی استفسار پر وکیل نے بتایا کہ سرکاری مشینری کے استعمال کا خدشہ موجود ہے، اس موقع پر وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
وکیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریق کو اپیل پر دلائل دینے کے مواقع دیے گئے، تاہم قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے آئی جیز اور ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، کیس مزید سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔





