تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور نہ کرنے کی استدعا مسترد

تحریک انصاف کے استعفوں بارے جتنی گنجائش دینی تھی دیدی ہے ، قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں ،سردار ایاز صادق
ملک جس سیاسی بحران سے دوچار ہے اسے حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ،چاہتے ہیں تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں ،سراج الحق

اسلام آباد …. سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سیاسی جرگے پر واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کے استعفوں کے حوالے سے جتنی گنجائش دینی تھی دیدی ہے ، میں نے قانون کے تقاضے پورے کرنے ہیں اور رولز کے مطابق کرونگا ۔ جمعرات کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں سینیٹر رحمن ملک اور میر حاصل بزنجو پر مشتمل سیاسی جرگے نے سپیکر قومی اسمبلی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور نہ کرنے کی استدعا کی۔ ملاقات کے بعد سراج الحق ، رحمن ملک اور میر حاصل بزنجو کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ میرے لئے سیاسی جرگے کے تینوں رہنماء قابل احترام ہیں، میں نے قانون کے تقاضے پورے کرنے ہیں، میں نے بہت گنجائش دی ہے، اس سے زیادہ گنجائش نہ دے سکوں گا، انہوں نے کہا کہ میں نے ارکان کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں مجھے شاہ محمود قریشی کا خط ملا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام ارکان کو اکٹھا بلایا جائے لیکن میں نے رولز کو دیکھنا ہے ، سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ سامنے ہے کہ میں استعفیٰ دینے والے اراکین سے تصدیق کروں کہ استعفے اصلی ہیں اور انہوں نے کسی دباؤ کے تحت استعفے نہیں دیئے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے قواعد دیکھنے ہیں اور الیکشن کمیشن نے اپنے قواعد کے تحت چلنا ہے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ ملک اس وقت جس سیاسی بحران سے دوچار ہے ہم اس بحران کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور سیاسی جرگے کی سپیکر سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں ، پاکستان کو بحران سے نکالنا ہے اس بحران نے ملک کو بے شمار مسائل سے دوچار کیا ہے، ہم نے سپیکر سے استدعا کی ہے کہ تحریک انصاف کے استعفے فوری طور پر منظور نہ کریں تاکہ انہیں موقع مل جائے اور تینوں فریق مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے چاند کا سفر شروع کر دیا ہے اور ابھی تک ہم بحرانوں میں الجھے ہوئے ہیں، سراج الحق نے کہا کہ سپیکر نے کہا ہے کہ وہ عجلت سے کام نہیں لینگے لیکن قانونی تقاضے پورے کرینگے، سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے سپیکر کے پاس موجود ہیں انہیں عجلت یا کسی اور وجہ سے منظور نہ کیا جائے ورنہ ایک اور بحران جنم لے گا، ہم اس بحران کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور کوشش ہے کہ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں ، ہم حکومت ، تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے بھی بات چیت کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ہم چار ، پانچ دن میڈیا کے سامنے نہیں آتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم چپ کر کے بیٹھ گئے ہیں، ہم ہر صورت کوشش کررہے ہیں کہ معاملات کو حل کیاجائے تاکہ بحران کا خاتمہ ہو، میر حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم نے سپیکر سے استدعا کی ہے کہ وہ استعفے فوری قبول نہ کریں، ہم نے پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے بھی کہا ہے کہ وہ فوری طور پر استعفے دینے کا فیصلہ واپس نہیں لیتے تو اسے موخر کردیں اور جب تک بات چیت چل رہی ہے تحریک انصاف استعفے لینے کا فیصلہ موخر کرے، انہوں نے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا سیاسی قیادت کا فرض ہے اور سیاسی جرگہ اسی لئے دن رات اپنی کوششیں کررہا ہے۔

Editor

Next Post

e-Paper 26-09-2014

جمعہ ستمبر 26 , 2014
e-Paper 26