۔۔کورونا وائرس کا پھیلاؤ،لاک ڈاؤن 14 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ
کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی دکانیں کھلی رکھنا بہت ضروری ہے۔ تمام صوبے اس فیصلے پرعملدرآمد کریں گے۔وفاقی وزرا
پاکستان میں مشتبہ کیسزکی تعداد 17331 ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے میں زیادہ اضافہ ہوا۔ 8 ہزار 893 لوگ قرنطینہ میں ہیں

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن 14 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیل کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلوں کے بارے میں اسد عمر، ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف نے میڈیا کو اہم بریفنگ دی۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کی بندشیں 14 اپریل تک جاری رہیں گی۔ تاہم کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی دکانیں کھلی رکھنا بہت ضروری ہے۔ تمام صوبے اس فیصلے پرعملدرآمد کریں گے۔وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بحال رہے گی۔ صوبوں کے وفاق سے موثر روابط کی وجہ سے مدد میں آسانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس آیا، ہم نے کورونا کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مزید 2 ہفتے تک بندشیں جاری رکھی جائیں گی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مشتبہ کیسزکی تعداد 17331 ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے میں زیادہ اضافہ ہوا۔ 8 ہزار 893 لوگ قرنطینہ میں ہیں جن میں سے پانچ ہزار 190 کے نتائج فائنل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 19 فیصد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ 82 لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہوئے۔ مختلف ہسپتالوں میں 974 مریض داخل ہیں جن میں سے دس وینٹی لیٹر پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل صحت کے حوالے سے ضروری اعلانات کریں گے۔
معاون خصوصی برائے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اینڈ سٹریٹجک پالیسی پلاننگ معید یوسف نے کہا کہ برطانیہ، کینیڈا، ترکی، کوالالمپور اور باکو میں موجود پاکستانیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔ 3 اپریل سے لے کر 11 اپریل تک 17 پروازیں اڑیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار مسافر پاکستان آئیں گے۔ پلان کو روزانہ کی بنیاد پر ریویو کیا جائے گا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔