صدر شی جن پنگ نے کہا کہ سٹریٹجک باہمی اعتماد اور عملی تعاون نے دو طرفہ ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، بدلتے عالمی حالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات ہماری ترجیح ہیں۔

…4.. (قیام امن عمل قابلِ تحسین)  سرد جنگ ذہنیت کی مخالفت کرنی چاہئے: صدر شیsharethis sharing button

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی عالمی معاشی اور عسکری طاقت ہے، عالمی سطح پر ترقی اور امن کیلئے چین کا اہم کردار ہے، ہانگژو کی ترقی صدر شی جن پنگ کے وژن اور متحرک قیادت کی مظہر ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اینشی ایٹو اور سی پیک خوشحالی ، ترقی اور دوستی کے منصوبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے میں دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کیلئے انتھک محنت ہوئی، دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط تر بنائیں گے، پاکستان اور چین آہنی بھائی اور منفرد تعلق میں بندھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا غیر متزلزل عزم پاکستان اور چین کے تعلقات کومزید تقویت دے گا،

بیجنگ: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں صدر شی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستانی کردار کو سراہا۔

چینی میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، خطے کی صورتحال، سکیورٹی تعاون اور باہمی شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات ہوئی۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔

شی جن پنگ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پرانا دوست قرار دیا اور کہا کہ چین اور پاکستان نے ایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے، اعلیٰ سطح پر سکیورٹی تعاون کو مزید بڑھانا چاہئے۔

صدر شی نے کہا کہ چین اور پاکستان کو یکطرفہ پالیسیوں اور سرد جنگ کی حامی ذہنیت کی مشترکہ مخالفت کرنی چاہئے۔انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو چین آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، معلوم ہے کہ فیلڈ مارشل ایران سے واپس آئے ہیں، چین اور پاکستان نے ایک دوسرے کو سمجھا اور اعتماد کیا، دوستی نسل در نسل آگے بڑھ رہی ہے۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ سٹریٹجک باہمی اعتماد اور عملی تعاون نے دو طرفہ ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، بدلتے عالمی حالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات ہماری ترجیح ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین کے دورے پر بہت خوشی ہوئی، سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ملکوں کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، دونوں ملکوں کی لازوال دوستی کا سہرا ہمارے بانی رہنماؤں کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے میں دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کیلئے انتھک محنت ہوئی، دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط تر بنائیں گے، پاکستان اور چین آہنی بھائی اور منفرد تعلق میں بندھے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا غیر متزلزل عزم پاکستان اور چین کے تعلقات کومزید تقویت دے گا، گزشتہ برس میں نے چین میں ہوانے والی فوج پریڈ میں خصوصی دعوت پر شرکت کی، جسے پوری دنیا نے دیکھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی عالمی معاشی اور عسکری طاقت ہے، عالمی سطح پر ترقی اور امن کیلئے چین کا اہم کردار ہے، ہانگژو کی ترقی صدر شی جن پنگ کے وژن اور متحرک قیادت کی مظہر ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اینشی ایٹو اور سی پیک خوشحالی ، ترقی اور دوستی کے منصوبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے لوث محنت اور مسلسل جدو جہد کے بغیر عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کا کوئی راستہ نہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں تیانمن سکوائر پر عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دی، وزیراعظم کے یادگار پہنچنے پر دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں پیش کی گئیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگار پر پھول رکھے، چین کے قومی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر وفاقی وزراء پاکستانی وفد کے ارکان اور چین کےاعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔