لیڈ (سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک) ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن ( ما نیٹرنگ ڈیسک )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے ساتھ ہی مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہورہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے امریکا ایک جامع معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے تفصیلی بات چیت کی۔
ٹرمپ کے مطابق ’اپنی گفتگو کے دوران، میں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے کی گئی تمام کوششوں کے بعد، کم از کم یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں‘۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن شامل ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس معاہدے میں شامل ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس معاہدوں میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو، جسے قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ممالک کو اس تاریخی معاہدے کا حصہ بننے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بری نیت کی علامت ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذکورہ عظیم رہنماؤں سے بات چیت کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ وہ اس بات کو اعزاز سمجھیں گے کہ جیسے ہی ہمارا معاہدہ طے پاتا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل کیا جائے، اور یہ واقعی ایک غیر معمولی بات ہوگی۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ میں لازمی طور پر مطالبہ کرتا ہوں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔
ٹرمپ نے اپنے نمائندہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اس عمل کا آغاز کریں اور ان ممالک کو اس تاریخی ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کریں۔
خیال رہے کہ سال 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھسفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔





