اسلام آباد(صباح نیوز)

وفاقی کابینہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے بین الاقوامی فلائٹس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بیرون ملک (اوورسیز)پاکستانیوں کے لئے مرحلہ وار انٹرنیشنل فلائٹس بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، کورونا وبا کے باعث لاکھوں پاکستانی روزگار سے محروم ہوئے جس کا دکھ ہے، حکومت پاکستان اپنے ہم وطن بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہے۔معاون خصوصی زلفی بخاری نے انٹرنیشنل فلائٹس کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلائٹس کی بندش سے اوورسیز پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ دو لاکھ سے زائد اوورسیز پاکستانی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ این سی سی کا اجلاس بلا کر معاملے پر مشاورت کی جائے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر عرب ممالک کے لئے بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں سے پاکستانیوں کی محفوظ وطن واپسی کے بعد اگلہ مرحلہ شروع ہوگا، سب سے پہلے بے روزگار ہونے والے مزدور اور محنت کشوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔اجلاس میں کورونا مریضوں کی ضرورت کی ادویات اور انجیکشنزکی زائد قیمتوں وصولی پر بحث ہوئی اور پیٹرول کی قلت پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر نے بتایا کہ پٹرول پمپس نے پیٹرول ذخیرہ کیا ہوا ہے جس پر کئی آئل کمپنیوں اور پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزارت پٹرولیم بحران کی ذمہ داری قبول کرے اور فوری طور پر ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کی جائے۔

 

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔