لاہور میں پولیس نے ڈیجیٹل ناکے لگا دیئے

 ایف آئی آر کا الیکٹرونک اندراج، ضمنی چالان کا آن لائن اسٹیٹس

، سیف سٹی کیمروں سے شہر کی نگرانی کے بعد اب ناکے ڈیجٹیل ٹیکنالوجی پر منتقل

شہر کے سات داخلی اور خارجی راستوں پر ای پولیس پوسٹ ایپ سے شہریوں کی چیکنگ کی جانے لگی

آئٹر…لاہور(صباح نیوز) لاہور میں محکمہ پولیس نے غیر ضروری ناکے ختم کر کے ڈیجیٹل ناکے لگا دیئے۔لاہور میں ایف آئی آر کا الیکٹرونک اندراج، ضمنی چالان کا آن لائن اسٹیٹس، سیف سٹی کیمروں سے شہر کی نگرانی کے بعد اب ناکوں کو بھی ڈیجٹیل ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا گیا۔لاہور شہر کے سات داخلی اور خارجی راستوں پر ای پولیس پوسٹ ایپ سے شہریوں کی چیکنگ کی جانے لگی۔ ای پولیس پوسٹ ایپ سے جرائم پیشہ افراد کو صرف شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے فوری گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایپ کا بہت فائدہ ہے ہمیں فوری ایک کلک پر شہری کا کریمنل ریکارڈ پتہ چل جاتا ہے اور اسی کی مدد سے کچھ دیر پہلے ہم نے ایک اشتہاری کو پکڑا ہے۔محکمہ پولیس کے مطابق ایپلی کیشن کے ذریعہ چوری شدہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا بھی پتہ چلے گا۔اس ایپ سے نہ صرف جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی میں آسانی ہو گی بلکہ عام شہریوں کو بھی ناکوں پر ریلیف ملے گا۔چار ماہ قبل لاہور پولیس نے ٹریول آئی کے نام سے نیا سافٹ متعارف کرایا تھا جس کا مقصد شہر کے مختلف اڈوں پر ٹکٹ خریدنے والے مطلوب ملزمان کو پکڑنا ہے۔پولیس کے مطابق اس سافٹ ویئر کے تحت لاہور کے تمام بس اڈے اور کمپنیاں رجسٹرڈ ہوں گے۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے بس اڈوں سے دوسرے شہروں میں فرار ہونے ملزمان پکڑے جاسکیں گے۔ کسی بھی مقدمہ میں نامزد ملزم اگر کسی بھی بس سروس سے ٹکٹ خرید کر سفر کرے گا تو وہ فوری سافٹ ویئر کے ذریعے پکڑا جائے گا۔انچارج کنٹرول روم سب انسپکٹر عمیر احمد کے مطابق ہمارے اس سسٹم میں لاہور کے بڑے بس اڈے رجسٹرڈ ہیں جن کے پاس لاگ ان ہیں جو بھی ٹکٹ خریدے گا اسکا ریکارڈ ہمارے پاس آجائے گا۔mk/ah

#/S

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔