مالی سال 2026-27 کا 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا؛ اہم نکات

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹر ) وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور حکومت ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی ریلیف کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

وزیرِ خزانہ کی تقریر کے اہم نکات

  • مجموعی بجٹ حجم: 18.77 کھرب روپے
  • ترسیلاتِ زر (Remittances) 11 ماہ میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
  • حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم اسے 7.5 فیصد کے قریب رکھنے کی توقع ہے۔
  • 200 سے زائد بین الاقوامی کمپنیوں نے حکومتی ٹیکنالوجی پارک میں سرمایہ کاری کی۔
  • پی آئی اے کی طرز پر متعدد ڈسکوز، بینکوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کی جائے گی۔
  • ٹیکس وصولیاں رواں مالی سال کے اختتام تک 13 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2022-23 میں 7200 ارب روپے تھیں۔
  • ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت 16 لاکھ سے زائد تاجر ڈیجیٹل ادائیگی نظام میں شامل ہوئے جبکہ ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 133 ملین تک پہنچ گئی۔

اہم بجٹ مختصات

ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچہ

  • 3675 ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے۔
  • 54.6 ارب روپے پائیدار شہری ترقی کے لیے۔
  • 103.1 ارب روپے پانی کی دستیابی کے منصوبوں کے لیے۔
  • دیامر بھاشا ڈیم: 14 ارب روپے
  • داسو ڈیم: 22 ارب روپے
  • داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ: 15 ارب روپے
  • کراچی K-4 واٹر پروجیکٹ: 10 ارب روپے

تعلیم اور صحت

  • صحت کے شعبے کے لیے 25.1 ارب روپے
  • اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے
  • دانش اسکول پروگرام کے لیے 22 ارب روپے
  • اسکول و کالج تعلیم اور ابتدائی تربیت پروگرام کے لیے 26.3 ارب روپے

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق فاٹا

  • مجموعی طور پر 144.9 ارب روپے
  • آزاد کشمیر: 45 ارب روپے
  • گلگت بلتستان: 44 ارب روپے
  • سابق فاٹا: 56 ارب روپے

دفاع اور سماجی تحفظ

  • دفاع کے لیے 3000 ارب روپے
  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): 838 ارب روپے
  • پیٹرولیم سبسڈی: 128 ارب روپے
  • وزیراعظم "اپنا گھر” اسکیم: 71 ارب روپے

ٹرانسپورٹ اور مواصلات

  • 365 ارب روپے ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی انفراسٹرکچر کے لیے۔
  • N-25 پاکستان ایکسپریس وے: 100 ارب روپے
  • M-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے: 30 ارب روپے
  • ایم ایل-1 (کراچی تا روہڑی سیکشن): 25 ارب روپے
  • تھر کول کنیکٹیویٹی منصوبہ: 2 ارب روپے
  • گوادر پورٹ اور صوبائی ٹرانسپورٹ منصوبے: 93 ارب روپے

توانائی

  • صاف توانائی اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے 116.2 ارب روپے
  • جدید گرڈ سسٹمز (STATCOM): 10.2 ارب روپے
  • بیٹری اسٹوریج منصوبے: 3 ارب روپے
  • آزاد کشمیر و گلگت بلتستان ہائیڈرو پاور منصوبے: 13.1 ارب روپے

عوامی ریلیف اقدامات

سرکاری ملازمین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
  • پنشنرز کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ
  • کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ

بینک کارڈز اور دیگر سہولیات

  • کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کر دیا گیا۔
  • مانع حمل (Contraceptives) پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی اور 10 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

سالانہ آمدنسابقہ شرحنئی مجوزہ شرح
22 لاکھ تا 32 لاکھ روپے23%20%
32 لاکھ تا 41 لاکھ روپے30%25%
41 لاکھ تا 56 لاکھ روپے35%29%
56 لاکھ تا 70 لاکھ روپے35%32%

گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED)

  • 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر FED نافذ کیا جائے گا۔
  • 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر موجودہ FED میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہوگا۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رعایتیں

  • الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے لیے موجودہ رعایتی ٹیکس نظام برقرار رہے گا۔
  • مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک کاروں اور بسوں کے لیے سہولیات جاری رہیں گی۔
  • درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر 1 فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت دی جائے گی۔

سپر ٹیکس میں تبدیلیاں

درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے

  • 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس مکمل ختم کر دیا گیا۔
  • اس سے قبل یہ ٹیکس 1 فیصد سے 7.5 فیصد تک تھا۔

بڑے کاروبار کے لیے

  • 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مستثنیٰ شعبے

مندرجہ ذیل شعبوں پر موجودہ سپر ٹیکس برقرار رہے گا:

  • بینکنگ سیکٹر
  • تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں
  • کھاد (فرٹیلائزر) کمپنیاں

یہ ریلیف بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ، صنعتی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے دیا گیا ہے۔