گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی ناقص سروس کے باعث کروناکے دوران طلبا کا نقصان ہواایس سی او سے بات کریں گے، وزیر تعلیم

گلگت (سٹاف رپورٹ)

گلگت بلتستان کے نگران وزیر تعلیم وتعمیرات عبدالجہان نے کہا ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ اور اچھی موبائل فون سروس یہاں لانے کے لئے کسی سے بھیک مانگنا پڑی تو مانگیں گے۔کروناکے دوران طلبا طالبات کا بہت نقصان ہوا ہے جس کی وجہ صرف انٹرنیٹ کی ناقص سروس ہے۔اگر سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے پاس گنجائش اور صلاحتیں نہیں تو دوسروں کو موقع دے۔کسی اور کو آگے آنے دے۔یاد رہے کہ کرونا کے مہینوں میں تعلیمی ادارے بند رہے ہیں اور آن لائن کلاسز ہی تعلیم وتدریس کا واحد ذریعہ تھیں مگر جی بی میں ایس سی او کی انٹرنیٹ سروس ہر عام آدمی سے لے کر وزیر اور چیف الیکشن کمشنر تک عدم اطمینان ظاہر کررہے ہیں۔اس حوالے سے عبدالجہان نے  ایک ملاقات میں  بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایس سی او سے بات کریں گے۔  ان کی توجہ دلائی کہ ایس سی او نے جگہ جگہ فورجی (4G)لگوایا ہوا ہے مگر اس کی سروس ٹو جی(2G)سے زیادہ نہیں۔یہ ہمارا تجربہ مشاہدہ بھی رہا اور اکثرمقامی لوگوں نے شکایت بھی کی۔اس پر عبدالجہان نے کہا کہ جی بی بہت منتشر علاقہ ہے۔آبادیاں بکھری ہوئی اور دور دور ہیں۔اس لئے یہاں انٹرنیٹ سروس بہتر ہوگی تو کام چلے گا۔ایس سی او سے بات کریں گے کہ اگر  اس کی اتنی گنجائش اور صلاحتیں نہیں تو کسی اور کو آگے آنے گے۔چائنا موبائل (زونگ)کے متعلق سوال پر عبدالجہان نے بتایا کہ چین آپٹک فائبر بچھارہا ہے۔یہ فائبر گلگت پہنچ چکی ہے اور گلگت کو راولپنڈی سے جوڑ دیا گیا ہے۔اس پر زونگ موبائل اور نیٹ سروس فراہم کرے گی۔وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ ہفتے(وسط جولائی)میں گلگت کا دورہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت میں آئی ٹی پارک قائم کیا جائے گا جس کے ایک ماہ بعد زونگ کی سروس فائبر پر مہیا کردی جائے گی۔عبدالجہان نے کہا کہ کرونا کے بعد صورتحال بہتر ہونے پر15ستمبر2020 سے تعلیمی ادارے کھولنے کا ارادہ ہے۔اس سے پہلے وفاق کے زیر انتظام بین الصوبائی میٹنگ ہوگی جس میں صورتحال کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ جی بی میں اپنا کوئی ٹیکسٹ بک بورڈ نہیں۔ہم سرکاری تعلیمی اداروں میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا نصاب پڑھاتے ہیں جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں آکسفورڈ کی کتابیں پڑھائی نہ ہونے کی تلافی ہمارے اساتذہ نے خصوصی ہوم ورک ڈیزائن کرکے پوری کرنے کی کوشش کی جو لائق تحسین ہے۔اس سے طلبا طالبات مصروف رہے اورتعلیم کے ساتھ ان کا رابطہ برقرار رہا۔عبدالجہان نے کہا کہ  یہاں مجموعی شر ح تعلیم74فیصدہے۔ضلع دیامر میں تعلیم کم اور خاص طور پر لڑکیوں کی شرح تعلیم کم ہے۔ہم وہاں توجہ دے رہے ہیں۔آغا خان نیٹ ورک کے تعاون سے ہوم سکول چل رہے ہیں۔ہوم ورک پر ضلع غذر میں بہت اچھا کام ہوا۔اس کو آگے بڑھارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہاتھ دھونے،بیسن بنانے اور سینی ٹائزر رکھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.