اسلام آباد (ویب ڈیسک)

این سی او سی نے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے پر تعلیمی اداروں کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے ملک بھر میں 48 گھنٹے کے دوران 22 تعلیمی ادارے بند کر دیئے، خیبرپختونخوا میں 16، اسلام آباد میں ایک، آزاد کشمیر میں 5 تعلیمی ادار بند کئے گئے۔

دوسری جانب سندھ میں تعلیمی ادارے کھلتے ہی کورونا کے کیسز آنا شروع ہوگئے، سندھ کے 2 کالجز کے 8 ممبران کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حیدر آباد کے ڈسڑکٹ مٹیاری کے دو کالجز میں عملےکے 8 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے، کورونا وائرس کے کیسز آنے کے بعد دونوں کالجز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کورونا وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 399 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 3 ہزار 634 ہوگئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 545 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 98 ہزار 41، سندھ میں ایک لاکھ 32 ہزار 818، خیبر پختونخوا میں 37 ہزار 185، بلوچستان میں 13 ہزار 798، گلگت بلتستان میں 3 ہزار 336، اسلام آباد میں 16 ہزار 5 جبکہ آزاد کشمیر میں 2 ہزار 451 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 30 لاکھ 56 ہزار 795 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 ہزار 808 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2 لاکھ 91 ہزار 169 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 593 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 6 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 399 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 223، سندھ میں 2 ہزار 451، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 257، اسلام آباد میں 178، بلوچستان میں 145، گلگت بلتستان میں 79 اور آزاد کشمیر میں 66 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔