پمز اسپتال میں کروڑوں روپے مالیت کی ادویات جعلی رسیدوں پر جاری ہونے کا انکشاف

پمز اسپتال میں کروڑوں روپے مالیت کی ادویات جعلی رسیدوں پر جاری ہونے کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ادویات کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ جاری کر دی

دستاویزات کے مطابق 2016-18 تک 89 کروڑ 94 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ادویات خریدی اور جاری کی گئیں

مریضوں کو ادویات دینے سے متعلق ایک بھی رسید کسی ڈاکٹر نے جاری نہیں کی، اسپتال کے ریکارڈ میں کچھ جعلی رسیدیں موجود ہیں

پمز انتظامیہ نے مبینہ بے ضابطگی سے متعلق جواب دینا بھی گوارہ نہ کیا، ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی جائے،رپورٹ

اسلام آبا(ویب ڈیسک )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز(پمز)میں 89 کروڑ 94 لاکھ روپے مالیت کی ادویات جعلی رسیدوں پر جاری ہونے کا انکشاف  ہوا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ادویات کی خریداری میں بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے۔دستاویزات کے مطابق 2016-18 تک پمز میں 89 کروڑ 94 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ادویات خریدی اور جاری کی گئیں۔ مریضوں کو ادویات دینے سے متعلق ایک بھی رسید کسی ڈاکٹر نے جاری نہیں کی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ریکارڈ میں کچھ جعلی رسیدیں موجود ہیں۔ رسیدوں پر مریضوں کے نام اور نمبر، ڈاکٹر کے دستخط اور مہر موجود ہی نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق پمز انتظامیہ نے مبینہ بے ضابطگی سے متعلق جواب دینا بھی گوارہ نہ کیا۔ ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی جائے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.