Trump and Jobidon

واشنگٹن: (ویب ڈیسک)

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کی برتری برقرار ہے، جوبائیڈن 264 الیکٹورل ووٹ کے ساتھ آگے،
ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹ کے حصول میں کامیاب ہوئے۔

وائٹ ہاؤس جوبائیڈن سے صرف 6 الیکٹورل ووٹ کے فاصلے پر رہ گیا۔ حکمرانی کیلئے 538 میں 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔
پولنگ کے مکمل نتائج آنے اور ان کے حتمی سرکاری اعلان کے لیے اگلے ماہ کی 14 کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ امریکی صدارتی الیکشن
میں 5 ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ جارجیا، نارتھ کیرولینا، پنسلوینا، الاسکا اور نیواڈاکے نتائج آئیں گے۔ 4 میں ٹرمپ اورایک میں جوبائیڈن آگے
، ریاست نیواڈا کا کردار اہم ہے۔

وسکونسن، پنسلوینا اور مشی گن میں دھاندلی کے الزامات لگا کر ٹرمپ نے ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے درخواستیں دے دیں۔
ٹرمپ کی سپریم کورٹ جانے کی بھی تیاری ہے۔ عدالتی جنگ کیلئے ٹرمپ کے حامیوں کی چندہ مہم جاری ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہاوس میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام سے فراڈ ہو رہا ہے، ان کے نزدیک تو وہ الیکشن جیت چکے ہیں

صدر ٹرمپ انتخابات سے متعلق اپنے بیانات پر شدید تنقید کی زد میں ہیں، ان کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کا کہنا تھ
ا کہ ٹرمپ کا بیان کسی بھی امریکی صدر کا سب سے غیر ذمہ دارانہ بیان تھا، وائٹ ہاؤس کے باہر ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامی آمنے سامنے آ گئے، م
شتعل افراد ایک دوسرے سے الجھ پڑے، پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کرایا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
بائیڈن کے حامیوں نے ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔نیو یارک، میامی، مشی گن، کیلی فورنیا کے علاوہ نیویارک اور پنسلوینیا میں بھی احتجاج کیا گیا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدارتی امیدوار بن گئے ہیں۔
رواں انتخابات میں لوگوں نے بڑی تعداد میں حق رائے دہی استعمال کیا جس کے بعد جوبائیڈن کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے،
انہوں نے سات کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کر کے سابق امریکی صدر براک اوباما کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 

جوبائیڈن انتخابات میں جیت کیلئے پرامید ہیں، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا صدارتی الیکشن میں ٹرن آؤٹ غیر معمولی تھا،
جیت کے لیے پرامید ہوں لیکن ابھی اعلان نہیں کر رہا۔ ڈیموکریٹک  امیدوار کا کہنا تھا کہ صدر کون ہو گا، صرف امریکی عوام ہی فیصلہ کریں گے،
ہمیں ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھنا چاہئے، جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ میری کامیابی اصل میں امریکی عوام کی کامیابی ہو گی،
واضح رہے ہم جیت کی راہ پر ہیں، الیکشن کے بعد ماحول بہتر بنا کر ایک دوسرے سے بات کرنا ہو گی۔

 

 

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔