پشاور (ویب ڈیسک)

کورونا کی دوسری لہر کے باعث خیبر پختونخوا میں 38 کے قریب سرکاری سکول بند کر دیئے گئے، تعلیمی اداروں کو طلباء اور اساتذہ میں کورونا مثبت کیسز سامنے آنے کے بعد بند کیا گیا۔

ضلع مہمند کے دو سکولوں کے 5 طلبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد دونوں سکولوں کو بند کر دیا گیا۔ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے بیت المال سکول میں 2 طلبہ اور ایک استاد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سکول کو بند کر دیا گیا۔

کورونا وائرس کے باعث لکی مروت، کوہاٹ، لوئر چترال، اپر اورکزئی، مردان، تورغر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، کرک، ہری پور، بنوں اور ڈی آئی خان میں سکول بند کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 42 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 7 ہزار 603 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 ہوگئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 843 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 13 ہزار 457، سندھ میں ایک لاکھ 61 ہزار 28، خیبر پختونخوا میں 43 ہزار 730، بلوچستان میں 16 ہزار 699، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 506، اسلام آباد میں 26 ہزار 177 جبکہ آزاد کشمیر میں 5 ہزار 911 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 51 لاکھ 41 ہزار 403 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 42 ہزار 752 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 3 لاکھ 28 ہزار 931 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 613 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 42 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 7 ہزار 603 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 826، سندھ میں 2 ہزار 799، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 323، اسلام آباد میں 270، بلوچستان میں 158، گلگت بلتستان میں 93 اور آزاد کشمیر میں 134 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔