اسلام آباد (ویب ڈیسک)

25 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس 30 دسمبر کو ہوگی، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود اجلاس کی صدارت کریں گے۔ صوبائی وزرائے تعلیم و دیگر متعلقہ حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

کانفرنس کا 4 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس میں تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولے جانے، بورڈ امتحانات مئی کے آخری ہفتے اور جون کے شروع میں منعقد کرنے پر مشاورت ہوگی۔ اجلاس میں گرمیوں کی تعطیلات میں کمی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوگی، نیا اکیڈمک سال اگست میں شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کورونا کی تازہ صورت حال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک کیلئے باضابطہ تعلیم کی پالیسی ضروری ہے، وزارت تعلیم نے قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کا باضابطہ عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے ٹوٹر پیغام میں کہا میری ہدایت پر وزارت تعلیم نے قومی تعلیمی پالیسی کیلئے وسیع مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے، ہم نے یکساں قومی نصاب سمیت متعدد اقدامات کئے ہیں اور تمام تجاویز کا خیرمقدم کریں گے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔