کورونا وائرس ،پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق …چار مشکوک مریضوں کا تعلق لاہور سے

کورونا وائرس ،ملک بھر میں مزید43افراد جاں بحق..اموات 10951ہو گئیں ،2521نئے کیسز رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) ملک بھر میں مہلک عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید 43مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی کل تعداد 10951تک پہنچ گئی۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 2521نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں کل رپورٹ ہونے والے کوروناوائرس کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 19ہزار291تک پہنچ گئی ۔نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی) کی جانب سے اتوارکے روز ملک میں کوروناوائرس کے حوالہ سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک میںکوروناوائرس کے چار لاکھ 73ہزار639مریض مکمل طورپر شفایاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس کے2373مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 34701تک پہنچ گئی ۔ ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح2.1فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 91.2فیڈ تک پہنچ گئی ۔ این سی او سی کے مطابق گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 1540مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔این سی او سی کے مطابق صوبہ سندھ کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، صحت یاب ہونے والے مریضوں اور فعال کیسز کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پرہے۔ کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کے اعتبارسے صوبہ پنجاب ملک بھر میں پہلے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پرہے۔ کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار سے صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت ملک بھر میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد3478تک پہنچ گئی۔ صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد17946،صوبہ پنجاب10861،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد1794 ،صوبہ بلوچستان308،آزاد جموں وکشمیر283اور گلگت بلتستان میںکوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد31رہ گئی ۔ اب تک صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے دو لاکھ 12ہزار933مریض مکمل طورپر صحت یاب ہو چکے ہیں، صوبہ پنجاب میںایک لاکھ 33 ہزار 952 ،خیبر پختونخوا میں58082،اسلام آباد میں 37769آزاد جموں وکشمیر8082جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے 4750مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ این سی اوسی کے مطابق اسلام آباد میں اب تک کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسزکی تعداد 40 ہزار 19تک پہنچ گئی،صوبہ خیبر پختونخوا میں 63 ہزار 339،صوبہ سندھ میں 2 لاکھ 34 ہزار 654،صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 49 ہزار 222،صوبہ بلوچستان میں 18 ہزار 569، آزادجموں و کشمیر میں 8 ہزار 606 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 882 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 409 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 3 ہزار 775، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 779، اسلام آباد میں 456، گلگت بلتستان میں 101، بلوچستان میں 190 اور آزاد جموںو کشمیر میں 241 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔این سی او سی کے مطابق اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے کل 73لاکھ67ہزار622ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران 41191افراد کے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کئے گئے۔ پہلے50ہزار کیسز 86 دنوں اور آخری پچاس ہزار کیسز صرف بائیس روز میں سامنے آئے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروی کو سامنے آیا جبکہ کورونا سے پہلی موت اٹھارہ مارچ کو رپورٹ ہوئی۔قومی ادارہ صحت نے پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق کر دی ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق دو پاکستانیوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم پائی گئی۔ دونوں شہری برطانیہ سے وطن واپس آئے۔وزیر صحت پنجاب  ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے چار مشکوک مریضوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ چاروں کے ٹیسٹ  لے کر این آئی ایچ بھجوا دیئے ہیں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.