Supreme Court

سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ

سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ
ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق نمائندگی ہونی چاہیے ، کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے ،جسٹس اعجاز الاحسن
ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی اتحاد میں فرق ہے، لازمی نہیں کہ وفاق میں حکومت بنانے والی جماعت کی صوبے میں بھی اکثریت ہو،رضا ربانی
سیاسی جماعتوں کا بین الصوبائی اتحاد بھی ہو تو خفیہ رکھنا کیوں ضروری ہے:جسٹس عمر عطا بندیال، سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد(ویب  نیوز) سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق نمائندگی ہونی چاہیے، کسی جماعت کے صوبائی اسمبلی میں دو ممبر ہوں وہ حلیف جماعتوں سے اتحاد قائم کرسکتی ہے، آپ متناسب نمائندگی سے متعلق بتا دیں۔ جمعہ کوچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ جواب جمع کرانا تھا۔ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا جواب جمع کرا دیا ہے جو پہلے جواب سے ملتا جلتا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جواب کو دیکھ لیں گے۔رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوشش کروں گا، اپنے دلائل مختصر رکھوں، عام طور پر اراکین اسمبلی کو اچھا وکیل نہیں سمجھا جاتا۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا آپ سینیٹر اور سنجیدہ وکیل ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ کے قیام کا مقصد تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے، جو خود کو الگ سمجھتے تھے انہیں نمائندگی دینے کے لیے سینٹ قائم ہوئی، پارلیمانی نظام میں دونوں ایوان کبھی اتفاق رائے سے نہیں چلتے ، لازمی نہیں کہ وفاق میں حکومت بنانے والی جماعت کی صوبے میں بھی اکثریت ہو، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے بھی سینٹ میں نشستوں کا تناسب بدل سکتا ہے، متناسب نمائندگی کے نقطے پر تفصیلی موقف دوں گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ متناسب نمائندگی کا ذکر آرٹیکل 51 اور ارٹیکل 59 دونوں میں ہے، سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بھی متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا، کسی جماعت نے اتحاد کرنا ہے تو کھلے عام کرے۔رضا ربانی نے کہا کہ متناسب نمائندگی کی عدالت جو تشریح کررہی ہے وہ آئیڈیل حالات والی ہے، سیاسی معاملات کبھی بھی آئیڈیل نہیں ہوتے، پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کا اتحاد ہے، پی ٹی آئی نے سینیٹ میں ق لیگ کو بھی سینٹ نشست دی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ میں سیاسی جماعت کی نمائندگی صوبے میں تناسب کے مطابق ہونی چاہیے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کئی بار سیاسی جماعتیں دوسرے صوبے کی جماعتوں سے بھی ایڈ جسمنٹ کرتی ہیں، بین الصوبائی اتحاد بھی ہو تو خفیہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟۔رضا ربانی نے جواب دیا کہ ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی اتحاد میں فرق ہے، سیاسی اتحاد عام طور پر خفیہ ہی ہوتا ہے، کوئی انفرادی شخص سینٹ ممبر بننا چاہے تو ہارس ٹریڈنگ ہو سکتی ہے۔عدالت نے صدارتی ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.