وزیراعظم کا جعلی زرعی ادویہ کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم

وزیراعظم کا جعلی زرعی ادویہ کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم

اٹک (صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے کسانوں سے ان کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جعلی زرعی ادویہ کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم دیا ہے۔وزیر اعظم عمران نے غازی بروتھا میں شجرکاری مہم کے افتتاح کے بعد کسانوں سے ملاقات کی جنہوں نے وزیراعظم کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔کسانوں نے بتایا کہ انہیں جعلی ادویہ کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے اور 2ہزار روپے کی خریدی گئی دوا، 200 روپے کا بھی کام نہیں کرتی۔کسانوں نے مہنگے بیج کے حوالے سے بھی وزیرعظم کو اپنے مسئلے سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے کئی گنا لاگت کے باوجود ان کی زیادہ آمدن نہیں ہو پاتی۔وزیر اعظم نے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ جس قیمت پر آپ بیچ رہے ہیں اور جس قیمت پر شہر میں بک رہی ہے اس میں بڑا فرق ہے، محنت آپ کررہے ہیں اور بیچ میں کوئی اور پیسہ بنا رہا ہے، ہم نے اس پر پروگرام بنایا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ کسان جس قیمت پر بیچتا ہے اور شہر میں جس قیمت پر چیز بکتہ ہے، اس میں بہت بڑا فرق ہے، ہم مدد کر کے اگر ہم بیچ پیسہ بنانے والوں کو ختم کر کے کسان کو زیادہ پیشہ دلوا دیں اور شہر میں کم دام میں دلوائیں تو اس میں سب کا فائدہ ہے جبکہ اسٹوریج کی سہولت سے بھی فائدہ ملے گا۔وزیر اعظم نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان کسانوں کو سولر توانائی کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ سولر انرجی اب سستی ہوتی جا رہی ہے اور ایک مرتبہ وہ لگ گیا تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سولر انرجی لگانے کے لیے کسانوں کو طویل عرصے کے لیے قرض بھی دے سکتے ہیں تاکہ وہ آرام آرام سے قرض ادا کر سکیں۔کسانوں نے عمران خان سے بیچ اور کھاد کی قیمتیں کم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی لاگت کم ہو جائے تو ان کے لیے کافی آسانی ہو سکتی ہے۔انہوں نے کسانوں کو آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہونے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں جو چیزیں لا رہے ہیں اس سے فرق پڑ جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس مرتبہ کھانے پینے کی چیزوں میں جو مہنگائی آئی ہے تو ہم نے یہ دیکھا ہے کہ کسانوں کو پیشہ نہیں مل رہا اور شہر والے شور مچا رہے ہیں کہ چیز مہنگی ہو گئی ہے۔انہوں نے کسانوں سے کہا کہ اب یہ سب کام کرنا ہماری ذمے داری ہے اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.