اعتماد کا ووٹ لینے کا  بھی وزیراعظم کو نہیں کہوں گا، اسمبلیاں تحلیل نہیں ہونگے ۔ عارف علوی

اسمبلیاں کسی صورت تحلیل نہیں ہونگے ۔ عارف علوی
اعتماد کا ووٹ لینے کا  بھی وزیراعظم کو نہیں کہوں گا،
سینیٹ اوپن بیلٹ سے متعلق  ریفرنس  پر بہتر فیصلے کی امید ہے
صدر مملکت کی نجی ٹی وی سے بات چیت

اسلام آباد(ویب  نیوز) صدر مملکت  ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کوئی بھی صورت ہو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا  نہیں کہیں گے ،میں  وزیراعظم کو  اعتماد کا ووٹ لینے کا بھی نہیں  کہوں گا، سینیٹ اوپن بیلٹ ریفرنس  پر سپریم کورٹ سے بہتر فیصلے کی امید ہے، آصف زرداری اور اخلاقیات دو الگ چیزیں ہیں ،صدر وزیراعظم کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدرمملکت  نے کہاکہ سینیٹ الیکشن کے نتائج  پر قومی اسمبلی  تحلیل نہیں ہوگی۔ وزیراعظم سینیٹ الیکشن  کے نتائج پر اسمبلیاں توڑنے کا بھی نہیں کہیں گے  ۔ سینیٹ میں نتیجہ کچھ بھی ہو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ بعض اچھے کام بھی سیاست کی نظر ہوجاتے ہیں ۔ ماضی میں اپوزیشن جماعتیں سینیٹ انتخاب اوپن ہینڈ سے کرانے کی بات کرتی رہی ہیں مگر اب مخالف ہوگئی ہیں۔ امید ہے عدالت اوپن بیلٹ سے متعلق درست فیصلہ دے گی ۔ صدرمملکت نے کہاکہ دو ڈھائی سال  میں میرا اور عمران  خان کا کسی چیز پر اختلاف رائے نہیں ہوا۔ سینیٹ الیکشن کے لئے جوڑ توڑ کا بازار گرم ہے اس کے نتیجے میں ایک پارلیمنٹ کو تحلیل کرنا غلط ہے ۔ ایک سوال پر صدر نے کہاکہ جہانگیر ترین کی پارٹی کے ساتھ وفاداری اپنی  جگہ قائم ہے ۔جہانگیر ترین  شوگر کمیشن کیس میں الزامات کا سامنا کررہے ہیں ۔ عمران خان آج بھی جہانگیر ترین کی خدمات کوتسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو مشورہ دیا تھا کہ ڈسکہ کے 20پولنگ  اسٹیشنوں پر ری پول کرائیں۔ جنرل الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے  ہونے چاہیے۔ صدرمملکت نے کہاکہ اسمبلی میں ماحول کا تعلق  نیب سے بھی  ہے، نیب قانون تبدیل نہیں  ہونا چاہیے  ۔ چیئرمین  سینیٹ کے انتخابات  اوپن بیلٹ سے کرانے  پر بات ہوسکتی ہے  ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آٹے ، چینی اور آئل پر سبسڈی دینی چاہیے۔ گورننس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ پی ڈی ایم تحریک غلطیوں کی وجہ سے ناکام ہوگی۔ وزیراعظم نے کہاتو نیشنل ڈائیلاگ ہوگا۔  پیپلزپارٹی  کے سابقہ ادوار میں سب سے زیادہ آرڈیننسز جاری ہوئے۔ آج تک ان لوگوں نے پانامہ کیس میں ثبوت پیش نہیں کیے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.