کراچی:کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
کے ایس ای100انڈیکس786.29پوائنٹس کی کمی سے45051.06پوائنٹس کی سطح پرآ گیا

کراچی(ویب  نیوز)سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کے باعث  پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کوشدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اورجس کے  باعث کے ایس ای100انڈیکس786.29پوائنٹس کی کمی سے45051.06پوائنٹس کی سطح پرآ گیا جب کہ76.79فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی ،مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو ایک کھرب9ارب7کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاتاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت 44.96فیصدزائد رہا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کاروبارکا آغاز مثبت زون میں ہوا جس کے باعث ابتدائی اوقات میںکے ایس ای100 انڈیکس 46ہزار کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے 46435پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تاہم بعد ازاں ملکی سیاسی افق پر غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کا رجحان بڑھ گیا جس کے نتیجے میں مندی چھاگئی اور دوران ٹریڈنگ انڈیکس 45ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 44848پوائنٹس کی نچلی سطح پرآ گیا بعد میں ریکوری آئی اور انڈیکس45ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی لیکن مندی کا رجحانآخر تک غالب رہا اورمارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس786.29پوائنٹس کی کمی سے45051.06پوائنٹس پر بند ہوا ۔اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس303.10پوائنٹس کی کمی سے18870.73پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 437.11پوائنٹس کی کمی سے30964.91پوائنٹس کی سطح پرآ گیا۔گزشتہ روزمجموعی طور پر405کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے85کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ311میں کمی اور9کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیںگرنے کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت81کھرب92ارب4کروڑ35لاکھ روپے سے گھٹ کر80کھرب82ارب97کروڑ34لاکھ روپے ہوگئی ۔قیمتوں میں اتار چڑھاو کے لحاظ سے سرفہرست کمپنیوں میںسیپ ہائر ٹیکس کے حصص کی قیمت63.65روپے کے اضافے سے 1046روپے اورانڈس ڈائنگ کے حصص کی قیمت51.63روپے کے اضافے سے 912.24روپے ہوگئی جب کہ انڈس موٹر کمپنی75.73روپے کی کمی سے 1024.42روپے اورفلپ موریس کے حصص کی قیمت54.33روپے کی کمی سے1300 روپے ہوگئی ۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔