اترپردیش میں انتہا پسند یوگی حکومت  نے مساجد کے خلاف کارروائی شروع کر دی
بارہ بنکی مسجد کے اطراف آہنی سلاخوں کی باڑھ لگا کرمسجد میں داخلے اور نماز پر پابندی لگادی
پولیس اور مسلمان مظاہرین میں جھڑپ، کئی مظاہرین زخمی ہوگئے 6 افراد کو بھی گرفتار کرلیا ہے

نئی دہلی(ویب نیوز ) اترپردیش میں انتہا پسند یوگی حکومت نے بارہ بنکی مسجد کے اطراف آہنی سلاخوں کی باڑھ لگا کرمسجد میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ، مسلمانوں کو  اس مسجد میں نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیاہے۔ حال ہی میں الہ آباد ہائیکورٹ کی جانب سے غیرقانونی مذہبی مقامات کو ہٹادینے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم  کو جواز بنا کر اترپردیش میں انتہا پسند یوگی حکومت نے  مساجد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے ۔  ضلع انتظامیہ نے مشہور زمانہ  بارہ بنکی مسجدمیں داخلے پر پابندی لگا دی۔ مسجد میں داخلے اور نماز کی ادائیگی  پر پابندی  کے خلاف مسلمان کمیونٹی  نے احتجاج کیا ہے۔  کے پی آئی  کے مطابق   پولیس اور مظاہرین  کے درمیان جھڑپ  میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے سنگباری اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں 6 افراد کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے سڑکوں پر موجود مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کررہی ہے لیکن رام سیناہی گھاٹ تحصیل کامپلیکس میں واقع مسجد نہ تو سڑک پر تعمیر کی گئی ہے اور نہ ہی اسے ہٹانے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔ وہیں تحصیل انتظامیہ نے مسجد کا راستہ بند کردینے سے قبل جو نوٹس چسپاں کیا ہے  اس میں مسجد سے متصل رہائش اور بیت الخلا کو بھی غیرقانونی قرار دیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مسجد کا برقی کنکشن بھی ہے۔ یہ عمارت سنی وقف بورڈ میں رجسٹر بھی ہے، تاہم یوگی انتظامیہ کچھ سننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ نوٹس وصول ہونے کے مسجد انتظامیہ  نے  وقف بورڈ کا رجسٹریشن، برقی کنکشن اور دیگر ثبوت پولیس کے حوالے کئے گئے لیکن پولیس نے ان ثبوتوں کو قبول نہیں کیا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔