پاکستانی سیاست میں اب ”باپ“ کا کردار پوشیدہ نہیں رہا: حافظ حسین احمد

پاکستانی سیاست میں اب ”باپ“ کا کردار پوشیدہ نہیں رہا: حافظ حسین احمد

باپ“ تو بہانہ تھا پی ڈی ایم کا خاتمہ درحقیقت دو ”باپوں“ کے مختلف بیانیہ اور مفادات کی وجہ سے ہوا

پی ڈی ایم میں انتشار کی اصل ذمہ داری کا سہرا ان دو نا تجربہ کار دو ”باپوں“ کے کے ”باپ“ کے سر ہے

باپ“ اگر ”مائی باپ“ کے کہنے پر ووٹ نہ کرتا تو ”باپ“ کے ساتھ دو بیمار ”باپوں“ کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا تھا

پیپلز پارٹی پر ”باپ“ سے ووٹ لینے پر اعتراض کرنے والے خود ”مائی باپ“ سے اعلانیہ خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں

بڑے  میاں کے معاملے میں بھی ایک ”باپ“ مسئلہ ہے جبکہ چھوٹے میاں ”مائی باپ“ کو اپنا ”باپ“ تسلیم کرچکے ہیں

 پی ڈی ایم کی تمام 9جماعتوں کے ”باپوں“ پر ایک ”باپ“ سب پر بھاری ثابت ہوا: سابق سینیٹر کی میڈیا سے دلچسپ گفتگو

 کوئٹہ /کراچی /جیکب آباد(ویب نیوز  ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما ممتاز پارلیمنٹرین اورسابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ماضی میں سیاسی معاملات میں ”باپ“ کا کردار بظاہر پوشیدہ رکھا جاتا تھا لیکن اب پاکستانی سیاست میں ”باپ“ کا کردار پوشیدہ نہیں رہا،دراصل پی ڈی ایم میں انتشار کی اصل ذمہ داری کا سہرا ان دو نا تجربہ کار موروثی بیٹے اور بیٹی کے ”باپ“ کے سر ہے۔ جمعرات کے روز کراچی اور جیکب آباد کے صحافیوں سے موجودہ سیاسی صورتحال پراپنے مخصوص انداز میں دلچسپ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”باپ“ تو بہانہ تھا لیکن پی ڈی ایم کا خاتمہ درحقیقت دو ”باپوں“ کے مختلف بیانیہ اور مفادات کی وجہ سے ہوا ہے، ”باپ“ اگر ”مائی باپ“ کے کہنے پر ووٹ نہ کرتا تو ”باپ“ کے ساتھ دو بیمار ”باپوں“ کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن سکتا تھا،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر ”باپ“ سے ووٹ لینے پر اعتراض کرنے والے خود ”مائی باپ“ سے اعلانیہ خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں، لندن والے بڑے میاں کے معاملہ میں بھی ایک ”باپ“ کا مسئلہ ہے جبکہ پاکستانی چھوٹے میاں پہلے ہی مسلسل رابطہ رکھ کر ”مائی باپ“ کو اپنا ”باپ“ تسلیم کرچکے ہیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ کوئی ”باپ“ سے ووٹ لیتا ہے تو کوئی ”مائی باپ“ کو ایکسٹینشن کے چکر میں ووٹ دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سارا مسئلہ سیاستدانوں کے ”پاپ“ یعنی ”کرپشن“ کا ہے، پی ڈی ایم کی تمام 9جماعتوں کے ”باپوں“ پر ایک ”باپ“ سب پر بھاری ثابت ہوا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی ممکنہ سیاسی صف بندی کے باعث جیل میں بند رہنما پہلی صف میں باقی سب ”سیاسی وینٹی لیٹر“ پر ہونگے۔