روس کا ترکی کو امریکی جنگی جہاز بحیرہ اسود عبور کرنے کی اجازت دینے سے انکار

روس کا ترکی کو امریکی جنگی جہاز بحیرہ اسود عبور کرنے کی اجازت دینے سے انکار

 روسی صدر ولادی میر پوتین نے کااپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کو فون

 بحیرہ اسود پر گذرگاہوں سے متعلق معاہدے کی اہمیت اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا

ماسکو( ویب نیوز) روس نے ترکی کو امریکا کے جنگی بحری جہازوں کو بحیرہ اسود عبور کرنے کی اجازت دینی   سے انکار کر دیا گیا ہے۔روسی خبر رساں ادارے “تاس” نے اطلاع دی ہے کہ صدر ولادی میر پوتین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انقرہ کو بحیرہ اسود تک باسفورس کے پار سے دو امریکی جنگی جہاز عبور کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ایجنسی نے بتایا کہ صدر پوتین نے اردوان کے ساتھ فون کے دوران بحیرہ اسود پر گذرگاہوں سے متعلق معاہدے کی اہمیت اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ترکی کی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکا نے اسے بحیرہ اسود کو دو جنگی جہازوں کے عبور کرنے کی اطلاع دے دی تھی جبکہ ماسکو نے اس وقت کہا تھا کہ یہ سرگرمی “پریشان کن” ہے۔ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اشارہ کیا ہے کہ دونوں امریکی جنگی بحری جہاز 4 مئی تک بحیرہ اسود میں موجود رہیں گے۔امریکی اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو بحیرہ اسود میں فوجی سرگرمی میں اضافے پر فکرمند ہے۔بحیرہ اسود میں امریکی موجودگی مونٹریکس معاہدے کے مطابق ہونی چاہیئے۔اس معاہدے کے تحت بحیرہ اسود کی گذرگاہوں پر ترکی کا کنٹرول تسلیم کیا گیا ہے۔ واشنگٹن کو سمندر میں داخل ہونے کے اپنے ارادے کے بارے میں 14 دن قبل مطلع کرنا ہو گا۔