کورونا وبا کے پیش نظر سعودی عرب میں تراویح اور قیام اللیل کو عشا ء نمازکے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت

کورونا وبا کے پیش نظر سعودی عرب میں تراویح اور قیام اللیل کو عشا ء نمازکے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت
قیام اللیل کی نماز 30 منٹ سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے۔سعودی وزیر برائے مذہبی امور
سعودی وزارت صحت کی کرونا کی روک تھام کے لیے ایس او پیز پرسختی سے عمل درآمد کی ہدایت

ریاض (ویب  نیوم)سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے کرونا وباء کے خطرات کے پیش نظر ملک بھر کی تمام مساجد کے آئمہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ نماز تراویح اور تہجد کی نمازوں کو عشا کی نماز کے ساتھ ادا کریں۔ تہجد یا قیام اللیل کو الگ سے ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور قیام اللیل کی نماز 30 منٹ سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے۔سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ وزارت صحت کی ہدایات کی روشنی میں ماہ صیام کے باقی ایام میں تراویح، رات کی عبادت اور تہجد کو ایک ساتھ ادا کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر صحت کی طرف سے ایک  پیغام ملا ہے جس میں ماہ صیام کے باقی ایام میں وباء کے پیش نظر عبادت کے اوقات کو محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت کی مساجد میں تراویح کے بعد قیام اللیل کی نماز تیس منٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وبا کی وجہ سے شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ماہ صیام کے بقیہ دنوں میں مساجد میں اجتماعی عبادت کو مختصر رکھیں تاکہ وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے، اس سے قبل سعودی عرب کی وزارت صحت نے کرونا وبا کے حوالے سے آنے والے دن زیادہ اہم اور خطرناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وبا کی روک تھام کے لیے حکومت کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی سختی سے پابندی کریں۔عرب میڈیا کے مطابق وزارت صحت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ عیدالفطر کے ایام افسوس کے دنوں میں نہیں بدلنے چاہئیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہری کرونا ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عمل کریں۔سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اس وقت کو کنٹرول کرنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لاتے ہوئے وبا کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے دن بالخصوص عید کے ایام زیادہ حساس اور اہم ہیں