بھارت میں کورونا سے صورتحال مزید ابتر، مزید 3 لاکھ 82 ہزار افراد وائرس سے متاثر،تین ہزار سات سو چھیاسی ہلاکتیں

مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی

نئی دہلی (ویب ڈیسک)

بھارت میں کورونا سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے، ایک ہی روز 3 لاکھ 82 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہوئے، مزید تین ہزار سات سو چھیاسی ہلاکتیں ہوئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، مزید 3 ہزار 786 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ ایک روز میں 3 لاکھ 82 ہزار افراد وائرس کی تصدیق ہوئی۔ بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 2 کروڑ 6 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔  بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران صحت کا ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر ہے۔ روزانہ تین لاکھ سے زائد معاملات درج ہونے اور ہزاروں کی اموات سے ہر جگہ لمبی قطار دکھائی دے رہی ہے۔اسپتال میں مریضوں کو داخل کرنے کے لئے نہ بیڈ بچے ہیں نہ ہی مریضوں کے لئے وینٹی لیٹر کا انتظام ہو رہا ہے۔لکویڈ آکسیجن کی کمی اور دواوں کی کمی سے صحت عملہ پریشان ہے۔ بھارت کے دارلحکومت دہلی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے، نئی دہلی کے ایک اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس میں اضافے کے دوران ان کا انفراسٹرکچر تباہ ہونے کے قریب ہے اور انہوں نے مغرب اور عالمی برادری سے مدد کی درخواست کی ہے۔ڈاکٹر سومت رائے نے اس صورتحال کو ایک "بڑی تباہی” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ہمیں مغرب سے یا کسی دوسرے ممالک سے کوئی مدد مل سکے۔ یہ صرف آکسیجن کی بات نہیں ہے۔ یہ کسی بڑی تباہی کی طرح ہے۔ کسی بڑی تباہی، زلزلے میں کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹروں کی ٹیم، نرسوں، اسپتالوں کے بیڈ لائے جاتے ہیں اور وہ فورا عارضی اسپتال تیار کر لیتے ہیں۔”اس دوران اسپتال میں بیڈ خالی نہیں ہے اور آکسیجن کی فراہمی میں بھی کئی بار رکاوٹ ہونے سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔دہلی کے ایک اسپتال میں علاج کرارہے مریض کے والد نیشانت کا کہنا ہے کہ "ان کے پاس آکسیجن کی بیسک سپورٹ نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے اور یہاں بہت سارے مریض آکسیجن پر ہیں۔ کل ایمرجنسی وارڈ کو عام مریضوں کے لئے بند کر دیا گیا تھا کیونکہ یہ پورا بھرا ہوا تھا۔ یہ بھی بھرا ہوا تھا اور سارے بیڈ بھرے ہوئے ہیں۔”کئی معاملوں میں نئے مریض کو آئی سی یو بیڈ تبھی مل پارہا ہے جب آئی سی یو میں داخل دوسرے مریض کی موت ہو جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بحران میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں، ایسے میں طبی عملہ بھی کافی پریشان ہے، کیونکہ طبی سہولیات کی کمی کے باعث وہ کئی مریضوں کی جان بچانے میں ناکام ہورہے ہیں۔دہلی کے ایک اسپتال کی ڈاکٹر روچی گپتا کا کہنا ہے کہ ”یہ تباہی ہے، ہم لوگوں کے پاس کسی کو معاذرت کرنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ ہم لوگ یہاں مریضوں کو کھو رہے ہیں۔ اور یہ کوئی پوشیدہ وجہ نہیں ہے، اسے ہر کوئی جانتا ہے۔ گورنر جانتے ہیں، انتظامیہ جانتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ حالانکہ 18 سال سے زائد کے نوجوانوں کو ویکسین دینے کی مہم مئی میں ہی شروع ہوئی ہے لیکن ملک بھر میں ٹیکے کاری کی مہم کافی سست قرار دی گئی ہے، جس کے لئے حزب اختلاف نے حکومت سے کئی بار سوالات بھی کئے ہیں۔