کووڈ سونامی سے نمٹنے کے لئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ،دہلی ہائی کورٹ مودی حکومت پر برس پڑی

آکسیجن کی عدم فراہمی: کووڈ مریضوں کی موت نسل کشی کے مترادف: الہ آباد ہائی کورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک)

بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے حال ہی میں دلی میں میڈیکل آکسیجن کے بڑھتے ہوئے بحران سے متعلق مسئلے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے ایک لہر پکارتے ہیں لیکن اصل میں یہ ایک سونامی ہے۔ اور اس بے قابو وبا سے نمٹنے کے لئے ایک مثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات کے فقدان کے معاملے پر  ایک بار پھر مودی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ،بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے ملک میں کورونا کے طوفان کے دوران آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات کے فقدان کے پیش نظر مودی حکومت پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ لوگ اندھے ہوسکتے ہیں لیکن عدالت نہیں ہے -دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت اس قدر غیر ذمہ دار کیسے ہوسکتی ہے یہ بات سمجھ سے باہر ہے – دہلی ہائی کورٹ پچھلے کئی روز سے مسلسل آکسیجن کی قلت پر سماعت کررہا ہے – کورونا کے شدید بحران کی وجہ سے دہلی، یوپی اور ملک کے بہت سے علاقوں میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں اور آکسیجن اور آئی سی یو بیڈ کی کمی نیز اسپتالوں کی بدانتظامی کی وجہ سے ہزاروں افراد آئے دن سڑکوں اور گھروں پر دم توڑ رہے ہیں ۔دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ اس سال کووڈ نے تباہی مچائی ہے، اب جسے دوسری لہر قرار دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ایک ہفتے میں ہی متاثرین کی تعداد 26 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس عرصے میں 23,800 اموات کا اندراج ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف مارچ کے ماہ میں کووِڈ کی وجہ سے 5,417 اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتارہے ہیں کہ اپریل کے ماہ میں اس کی وجہ سے 45,000 انسانی زندگیاں تلف ہوگئی ہیں،علاوہ ازیں الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے  ہوئے کہ آکسیجن کی عدم فراہمی و عدم دستیابی کی وجہ سے کووڈ مریضوں کی موت نسل کشی کہلائے گی۔ لکھن اور میرٹھ اضلاع میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کووڈ 19 کے مریضوں کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ خبروں کے سلسلے میں جو ریمارکس کیے گئے تھے، عدالت نے ان کا سخت نوٹ لیا ہے اور واقعات کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ۔جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اجیت کمار پر مشتمل دو ججوں کی بنچ نے ریاست میں کووڈ 19 کے پھیلا اور کورنٹائن مراکز کی حالت سے متعلق مفاد عامہ کی ایک قانونی درخواست پر یہ حکم  جاری کیا۔مفاد عامہ کی درخواست پر جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اجیت کمار نے کہا کہ ہمیں یہ مشاہدہ کرنے میں تکلیف ہے کہ صرف اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی نہ کرنے کی وجہ سے کووڈ مریضوں کی موت ہورہی ہے جو ایک مجرمانہ فعل ہے اور ان لوگوں کے ذریعہ یہ نسل کشی سے کم نہیں جن کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ آکسیجن کی مسلسل خریداری اور سپلائی چین کو یقینی بنائے،۔واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 2 کروڑ 6 لاکھ سے تجاوز کر گئی  جبکہ فی الوقت یہاں 34 لاکھ افراد کووِڈ متاثر ہیں۔ یہ سارے اعداد و شمار ایک بڑے سماجی بحران کا عندیہ دے رہے ہیں۔ کئی بین الاقوامی ایجنسیوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس ماہ بھارت میں روزانہ متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرے گی اور روزانہ 5 ہزار اموات ہوں گی۔ اس انتباہ کے بعد ایک بار پھر ملک گیر لاک ڈان لاگو کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔