ہمارے انصاف کا نظام طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا، وزیر اعظم عمران خان

اگلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں، کورونا کیسز کم کرنے ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ماسک پہنیں

ایک یونین بنی ہوئی ہے پی ڈی ایم کے نام سے کہ ہمیں این آر او دے دو باقی عام لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دو، تقریب سے خطاب

لاہور (ویب ڈیسک)

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے انصاف کا نظام طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔لاہور میںوزیراعظم کو پنجاب پیری اربن کم لاگت ہائوسنگ اسکیم سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی،اس موقع پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور فرخ حبیب بھی ان کے ساتھ موجود ہیں، وزیر اعظم نے کلین ایند گرین مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔ پنجاب پیری اربن ہائوسنگ منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں کورونا کی وبا سے لوگ پریشان ہیں، ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں کورونا کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں، لوگوں کو آکسیجن نہیں مل رہی، ہم کورونا کی تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، کورونا کے پہلے دو فیز میں اللہ نے بڑاکرم کیا، کورونا کے حوالے سے اگلے2 ہفتے ہمارے لئے بہت اہم ہیں، ہم نے کورونا کیسز کی شرح کو نیچے لے کر آنا ہے، سب کو تاکید کروں گا سب ماسک پہنیں۔بھارت میں جو حالات ہیں اگر حکومت اپنی صلاحیت دوگنی نہ کرتی تو ہمارے بھی وہی حالات ہونے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں، ہمیں کورونا کیسز کم کرنے ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ماسک پہنیں۔انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں امیر کم اور غریب زیادہ ہوں وہ معاشرہ کبھی اوپر نہیں جاتا ،ایلیٹ کلاس نے ملک کو ہر طرح سے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ غریب عوام کو کیسی تعلیم مل رہی ہے ایک نظام بن گیا ہے جس میں عام آدمی کے لیے کوئی سوچ نہیں تھی کہ وہ کیسے زندگی گزارے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے ہمارا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوئوں کو نہیں پکڑ سکتا، ہمارے انصاف کا نظام طاقتور لوگوں کے لیے فیل ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور کو کچی آبادی بنتے دیکھا ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانا بہت مشکل ہوگیا ہے، وہ کیا کرے، اس لیے یہاں کچی آبادیاں بنیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہاں قبضہ گروپ بھی سرگرم تھا جو کمزور لوگوں یا سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جو عام آدمی کو اوپر لانے کی کوشش نہیں کرتا، چھوٹا سا معاشرہ جس میں امیروں کا چھوٹا سا جزیرہ ہو اور نیچے غریبوں کا سمندر وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سرکاری ہسپتال انگریزوں کے بنائے ہوئے ہیں، امیر نجی ہسپتالوں اور سپر رچ بیرون ملک اپنا علاج کراتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مدینے کی ریاست قائم ہوتے ہی دودھ کی نہریں نہیں بہی تھیں، انہوں نے سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کی تھی کہ صرف غریب جیلوں میں نہیں جائیں گے، سرکار مدینہ نے کہا تھا کہ بیٹی بھی چوری کرے گی تو سزا ملے گی، مدینہ کو فلاحی ریاست بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں شور مچا ہوا ہے، 30 سال سے حکومت کرنے والے شور مچا رہے ہیں، وہ احتساب دینے کو تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون کے اوپر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک یونین بنی ہوئی ہے پی ڈی ایم کے نام سے کہ ہمیں این آر او دے دو باقی عام لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دو،طاقتور کو قانون کے تابع لانا ہماری ذمہ داری ہے۔