احساس ادائیگی نظام کو رواں سال ستمبر تک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا،ثانیہ نشتر

احساس ادائیگی نظام کو رواں سال ستمبر تک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا،ثانیہ نشتر

احساس کفالت پروگرام کے تحت70 لاکھ سے زائدمستحقین کی مدد کی جا رہی ہے، معاونِ خصوصی کا انٹرویو

اسلام آباد(ویب  نیوز)سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت ملک کے ستر لاکھ سے زائد ضرورت مند افراد کی مدد کی جا رہی ہے۔انہوں نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احساس ادائیگی نظام کو رواں سال ستمبر تک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے لئے اے ٹی ایمز اور بینکوں کی شاخیں نئے احساس ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی نمایاں خصوصیت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں جواب دہی اور نتائج پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے ذریعے غربت سے نمٹنے کے لئے عالمی طور پر ایک مثالی بنیاد رکھنے میں مدد ملی۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ وفاقی حکومت احساس پروگرام کے تحت مستفید ہونے والوں کے لئے آئندہ ماہ سے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور کریانہ سٹورز پر مخصوص اعانت دینے کا بھی آغاز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹی ٹی نظام کے تحت احساس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کو کھانے پینے کی بعض اشیا پر سبسڈی دی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احساس لنگر سکیم کو ملک کے باقی حصوں تک توسیع دی جائے گی تاکہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ ان تمام عملی اقدامات کا مقصد امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنا اور ملک میں سماجی ہم آہنگی کا قیام ہے