سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر مایوسی ہوئی،شاہ محمود قریشی

آج مسلم امہ کے اتحاد کا امتحان ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو دوہرا معیار ختم کرکے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا

پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ظلم پر کمربستہ اسرائیل کا موازنہ بربریت کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ نہ کیا جائے، وزیر خارجہ

اسلام آباد(ویب  نیوز)

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر مایوسی ہوئی، امریکہ کی جانب سے ویٹو ہو جانے کے باعث یہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔پیر کو فلسطین کی صورتحال پر اہم بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں، میں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فلسطینی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ میں نے اس حوالے سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ بشمول امریکہ، چین سعودی عرب، ترکی، فلسطین کے ساتھ رابطے کیے اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف مغربی دارالحکومتوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ میڈیا ہائوسز پر بمباری کر کے انہیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اس آواز کو جبرا نہیں دبایا جا سکتا۔ یورپی ممالک میں بھی عوام الناس کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یورپی یونین کا اجلاس آج (منگل کو) طلب کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ظلم پر کمربستہ اسرائیل کا موازنہ بربریت کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ نہ کیا جائے۔ آج مسلم امہ کے اتحاد کا امتحان ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو دوہرا معیار ختم کرکے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1948 سے لے کر آج تک اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں پر ظلم کر رہی ہے۔ مشرقی یروشلم میں انتہا پسند یہودیوں نے مارچ کیا، پوری دنیا نے یہ دلخراش مناظر دیکھے، فلسطین میں قتل عام اسلامی دنیا کے لیے پیغام ہے،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج جڑیں پکڑ رہا ہے، آج عالمی میڈیا خاموش ہے، اس کی زبان کو تالے لگ گئے ہیں، ایسی حرکت کسی اور ملک میں ہوتی تو کیا دنیا خاموش رہتی؟ آج عالمی طاقتیں کہاں ہیں؟ فلسطینیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میں آج یہاں اس ایوان میں حکومت کی چیرہ دستیوں اور اپوزیشن کے خلاف ظلم کا ذکر نہیں کروں گا۔ کیونکہ آج ہم نے اسرائیل کے مظالم کی بات کرنی ہے۔شہباز شریف نے کہاکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد اقصی میں نہتے نمازیوں پر حملے کیے گئے۔ اسرائیل کی بدترین سفاکی زوروں پر ہے۔ ماضی میں فاشسٹ ہٹلر جہاں تھا، آج وہاں نیتن یاہو کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی دوسری نسل بدترین ظلم کا شکار ہے۔ حالیہ جارحیت کے نتیجے میں درجنوں بچے اور خواتین کو شہید کیا گیا۔ اسرائیلی بمبار طیاروں نے اندھا دھند گولہ باری کی۔ غزہ میں الجزیرہ چینل کی بلڈنگ کو گرتے دنیا نے دیکھا۔ اس طرح کی سفاکی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ ہے وہ ظلم کی داستان جو فلسطینی آج تک برداشت کر رہے ہیں۔ اوسلو کے معاہدے کو انہوں نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ یاسر عرفات، منہان بھیگن کو نوبل پرائز ملے لیکن آزاد فلسطین کا قیام آج تک نہ ہو سکا۔ کشمیر کی طرح فلسطین کی قراردادوں کو بھی ٹھکرا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قتل عام اسلامی دنیا کے لیے پیغام ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج جڑیں پکڑ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کو آج 22 کروڑ عوام کی دلوں کی آواز بننا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام کے اندر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین ہے۔ دوسرے ممالک نے بھی اسرائیلی سفاکیت کی مذمت کی ہے۔ نہتی قوم پر اسرائیلی فوج بمباری کر رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسی ہلکی سی حرکت کوئی اسلامی ملک کرتا تو پھر کیا عالمی طاقتیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتی؟ اگر کوئی اسلامی ملک ایسا کرتا تو فوری جنگ مسلط کر دی جاتی اور ہر قسم کی پابندیاں لگا دی جاتیں۔ آج عالمی میڈیا خاموش ہے، اس کی زبان کو تالے لگ گئے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی حرکت کسی اور ملک میں ہوتی تو کیا دنیا خاموش رہتی؟ آج عالمی طاقتیں کہاں ہیں؟ فلسطینیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے حوالے سے قراردادوں پر کتنی تیزی سے عمل کیا گیا تھا۔ مشرقی تیمور کو آزادی دلوائی گئی تھی لیکن اس کے مقابلے میں بوسنیا میں کیا ہوا تھا؟شہباز شریف نے کہا کہ بوسنیا میں سینکڑوں لوگوں کو لقمہ بنایا گیا۔ بوسنیا میں اجتماعی قبروں کا بدترین سکینڈل سامنے آنے تک عالمی طاقتوں کا ضمیر نہیں جاگا تھا۔ بوسنیا میں شہروں کے شہر قبرستان بن گئے تھے۔ بوسنیا، ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کا موازنہ کریں گے تو صورتحال سمجھ آ جائے گی۔