شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے پر تحریری جواب26مئی کو طلب

عدالت حکومت سے جواب منگوالے ساری بات کلیئر ہو جائے گی،وکیل اعظم نذیر تارڑ

شہباز شریف نے اپنے عدالتی حکم کو کسی متعلقہ حکام کو جمع نہیں کرایا،ڈپٹی اٹارنی جنرل

کس لسٹ میں شہباز شریف کا نام تھا؟ یہ پی این آئی ایل کیا ہے،عدالت کا سرکاری وکیل سے سوال

سرکاری وکیل عدالت کو پی این آئی ایل لسٹ کا مطلب نہ بتا سکے

لاہور (ویب ڈیسک)

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بیرون ملک جانے سے روکنے کے خلاف درخواست پر سرکاری وکیل سے26مئی کو تحریری جواب طلب کرلیا۔ بدھ کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کی متفرق درخواست پر سماعت کی، شہباز شریف کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے سوال کیا کہ شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے بعد کیا یہ درخواست قابل سماعت ہے؟، لاہور ہائیکورٹ کا عبوری حکم سپریم کورٹ میں چیلنج ہونے پر کیا یہ درخواست قابل سماعت ہے؟۔جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ نام ای سی ایل میں آنے کے بعد عبوری حکم پر کیسے عملدرآمد کرایا جا سکتا ہے؟، اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت حکومت سے جواب منگوالے ساری بات کلیئر ہو جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری وکیل ہدایات لے کر عدالت کو بتائیں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ہے یا نہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر، بڑی سیاسی جماعت کے صدر ہیں، اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ جب بھی کوئی اس عدالت میں آتا ہے وہ بطور درخواست گزار آتا ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہوچکا ہے، شہباز شریف نے اپنے عدالتی حکم کو کسی متعلقہ حکام کو جمع نہیں کروایا، وہ سیدھا ایئر پورٹ چلے گئے اور عملے کو عدالتی حکم دے دیا، شہباز شریف کی ذمہ داری تھی کہ عدالتی حکم کی سروس کرواتے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایئرپورٹ عملے نے کہا کہ شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کا شہبازشریف سے متعلق حکم بلیک لسٹ میں نام ہونے پر تھا۔عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ کس لسٹ میں شہباز شریف کا نام تھا؟ یہ پی این آئی ایل کیا ہے ؟ سرکاری وکیل عدالت کو پی این آئی ایل لسٹ کا مطلب نہ بتا سکے۔اس پر لاہورہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے 26 مئی کوجواب طلب کرلیا۔