کمپیٹیشن کمیشن نے کارباری اداروں کے اشتراک سے ای کامرس پالیسی گائیڈ لائنز بنانے کا اعلان

سی سی پی کا کاروباری اداروں کے اشتراک سے ای کامرس پالیسی گا ئیڈ لائنزبنانے کا اعلان۔

اسلام آباد (ویب نیوز )

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے کارباری اداروں کے اشتراک سے ای کامرس پالیسی گائیڈ لائنز بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس سے صارفین کا ای کامرس مارکیٹ میں اعتماد قائم ہو گا اور ای کامرس مارکیٹ میں کسی بھی ممکنہ دھوکہ دھی پر مبنی تشہیر اور کمپیٹیشن مخالف سرگرمیوں سے بچا جا سکے گا۔

دنیا بھر میں جاری کووڈ19 وباء کی وجہ سے اب عام صارف کا رجحان ڈیجیٹل دنیا (ای کامرس) کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل بزنس ماڈل اور آن  لا ئن ٹرانزیکشن کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔اس لئے اس بات کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو گئی ہے کہ آن لائن شاپنگ کے دوران صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

چیئر پرسن سی سی پی راحت کونین حسن نے کہا کہ مئوثر روابط اور شفافیت سے ای کامرس کو مذید ترقی ملے گی اور صارفین کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔

سی سی پی نے اس سلسلے میں پاکستان میں موجود 35آن لائن پلیٹ فارم سے رابطہ کیا تا کہ ان کی آن لائن سرگرمیوں اور ٹرانزیکشنز کے متعلق بنیادی پہلوئوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان میں کاروباری آپریشنز اور پراڈکٹ کی تفصیلات اور تصدیق کا عمل، انتباہ، وارنٹی،  ڈ س کلوزراور ڈسکلیمر، لازمی شرائط، ادائیگی کا طریقہ کار، ڈیلیوری کا طریقہ کار، واپسی کا طریقہ کار ، ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ اور کسی تنازعے کے حل میں صارف کی آسان رسائی شامل ہیں۔

مذید براں ،  سی سی پی کاروباری اداروں سے اس بات کی وضاحت بھی چاہتا ہے کہ صارف کے ڈیٹا اور پرائیوسی کی حفاظت کے لئے کو ن سا طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے اور مصنوعات کے ساتھ دی گئی معلومات صاف ، شفاف اور واضح ہیں کہ نہیں ۔

سی سی پی اس بات کا عزم رکھتا ہے کہ وہ ای کامرس گائیڈ لائنز کے زریعے تیزی سے پھلتی پھولتی الیکٹرانک مارکیٹ پر صارفین کا اعتماد بحال رکھے گا اور انہیں کسی بھی دھوکے ،غیر منصفانہ کاروباری رویوں سے بچانے اوران کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہر اقدام کرے گا۔        سی سی پی تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرے گا۔

سی سی پی کو کمپیٹیشن ایکٹ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں کمپیٹیشن کو ممکن بنائے اورصارفین کو کمپیٹیشن مخالف سر گرمیوں سے بچائو کے لیے اقدامات کرے۔