کراچی (ویب ڈیسک)

آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے انکم ٹیکس کی شرح گھٹا کر دو فیصد کرنے اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

آئل ٹینکر کنٹریکٹرز اور آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر عابد عبداللہ آفریدی اور جنرل سیکریٹری شعیب اشرف نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جمعرات سے ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم سے 18 جولائی 2020ء کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے گراس ریونیو پر ٹیکس کی شرح میں کمی سمیت دیگر تمام مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن وفاقی بجٹ میں کوئی اقدام تجویز نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے کمرشل اور غیر قانونی لوڈنگ پر پابندی کے باوجود روکا نہیں جارہا، وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کے ذریعے اب پیٹرول کی ترسیل بھی پائپ لائن پر منتقل کی جارہی ہے جس میں آئل ٹینکرز کے ذریعے ترسیل کا کوٹا تاحال مختص نہیں کیا گیا حالانکہ آئل ٹینکر مالکان اوگرا کے معیار کے مطابق فی ٹینکر دو کروڑ روپے مالیت سے تیار کرکے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں۔