معیشت کی بحالی کیلئے سی پیک کے تحت بننے والے اسپیشل اکنامک زونز کو بروقت تعمیر کیا جائے۔ سردار یاسر الیاس خان
سی پیک منصوبوں کی سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز میں پچاس فیصد حصہ مقامی سرمایہ کاروں کیلئے یقینی بنایا جائے

اسلام آباد ( ویب نیوز ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سی پیک میں سرمایہ کاری کیلئے پائے جانے والے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ہرممکن سہولیات فراہم کرے جس سے معیشت جلد بحال ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سی پیک کے تحت پہلے مرحلے میں ملک میں 9 اسپیشل اکنامک زونز زون قائم کرنے ہیں اور انہوں نے زور دیا کہ ان زونز کو بروقت تعمیر کیا جائے تاکہ معیشت ان کی ترقی کے ثمرات سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سی پیک منصوبوں کی سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز میں کم از کم پچاس فیصد حصہ مقامی سرمایہ کاروں کیلئے یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی

 

منتقلی کے ساتھ ساتھ حکومت سی پیک منصوبوں میں 90فیصد ملازمت کے مواقع پاکستان کی ہیومن ریسورس کیلئے یقینی بنائے جس سے ہماری معیشت کو بہت فائدہ ہو گا اور غربت و افلاس میں کمی واقع ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمر سکول کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام بحریہ یونیورسٹی نے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز، نیدرلینڈ کے تعاون سے کیا۔
سمر سکول ماسٹر کلاس کا اختتامی سیشن سی پیک اور پاکستان کے لیے اس کی اہمیت کے موضوع کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صدر سردار یاسر الیاس خان نے اختتامی سیشن کی صدارت کی اور پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سی پیک کے قلیل اور طویل مدتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر روشنی ڈالی۔
اختتامی سیشن میں میاں عبدالرؤف سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، وائس ایڈمرل آصف ہمایوں (ٹی آئی)، بیرسٹر وقاص اعظم لیگل ایڈوائزر سی پیک اور ایمسٹرڈیم یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز، نیدرلینڈ کے ڈاکٹر سینڈرز شروٹس سمیت دیگر نے شرکت کی۔
سردار یاسر الیاس خان نے طلباء کے لیے سمر سکول کے انعقاد کے لیے بحریہ یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا اور یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی مستقبل میں بھی اس طرح کے ایونٹس کے انعقاد میں بحریہ یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔