پاک افغان سرحد محفوظ، صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے،ترجمان پاک فوج

پاک افغان سرحد محفوظ، صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے،ترجمان پاک فوج
افغانستان میں امن پاکستان میں امن سے براہ راست جڑا ہوا ہے،توقع ہے طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرینگے
بھارت نے افغانستان میں سرمایہ کاری پاکستان کو نقصان پہچانے کے لیے کی،اب نئی دہلی کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا
کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرتی رہی، میجر جنرل بابر افتخار کی میڈیا بریفنگ

راولپنڈی( ویب  نیوز)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن سے براہ راست جڑا ہوا ہے، افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال غیر متوقع تھی، اسی تناظر میں سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد محفوظ اور صورتحال ہمارے کنٹرول میںہے، توقع ہے طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرینگے،بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ پاکستان کو نقصان پہچانے کے لیے کی،کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرتی رہی، افغانستان سے بھارت کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی پر پاک فوج کے دستے تعینات ہیں۔ داسو، لاہور، کوئٹہ اور گوادر میں دہشتگردی واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کر دیا ہے۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں 15 اگست کے بعد تیزی سے تبدیلی آئی،افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ سب کی امیدوں کے برعکس تھا،

افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال اور ہمیں درپیش قومی سلامتی کے مسائل اور کسی قسم کے عدم استحکام سے نمٹ رہے ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سب ہی کو معلوم ہے، امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، پاکستان نے پہلے سے ہی اقدامات کرتے ہوئے نقل وحرکت کو کنٹرول کر لیا تھا۔ سرحد کی پاکستانی سائیڈ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں امن کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے گئے۔ ہم نے پاک افغان بارڈر کیلئے بہترین اقدامات کیے۔ صورتحال سامنے رکھتے ہوئے چیک پوائنٹس پر دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے حد قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میںہمارا 152 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 80 ہزار سے زائد جانیں دیں۔ پاکستان کو 2013 میں دہشتگردی کے 90 بڑے واقعات کا سامنا کرنا پڑا لیکن قوم کی حمایت سے ہم نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی آئیں گے۔پڑوسی ملک میں ہونے والے واقعات کی ٹائم لائن دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقع پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے کیونکہ وہ خوفزدہ تھے کہ ان کی پوسٹوں پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں قبول کیا گیا اور فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اندازہ لگایا تھا کہ حالات کس طرف بدلنے جا رہے ہیں اور عدم استحکام کا امکان ہے جس کی وجہ سے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے فوجیوں کو اہم سرحدی گزرگاہوں پر منتقل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ78میں سے سترہ سرحدی گزرگاہوں کو مزید تعیناتی کے لیے نوٹیفائی کیا گیا تھا اور تمام غیر قانونی تجاوزات کو بند کر دیا گیا تھا، 15 اگست کے بعد ٹرمینلز اور سرحدی گزرگاہیں کھلی رکھی گئیں،سرحد پر قانونی دستاویزات کے ساتھ نقل وحمل کی اجازت ہے، قافلے بھی دونوں اطراف میں مسلسل آرہے اور جارہے ہیں،سرحدی امور معمول کے مطابق ہیں، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے دوسری سب سے بڑا مقام پاکستان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 113 پروازیں فوجی اور تجارتی دونوں افغانستان سے پاکستان پہنچ چکی ہیں، پاک افغان سرحد پر حالات معمول پر ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پڑوسی ملک میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ سے افغانوں کے علاوہ اس تنازع کے سب سے زیادہ متاثرین پاکستانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے حملے کے بعد سے ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، معاشی نقصانات کے علاوہ 86 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل تھے، مشرقی سرحد پر بھی ہم نے تین بڑی کشیدگی سیکھی، پاکستان میں ایک سال میں 90 سے زائد دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ 2014کے بعد سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر 12 ہزار 312جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔اس عرصے کے دوران فوجی کارروائیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج نے 1237 بڑے اور معمولی آپریشن کیے اور مغربی سرحد کے ساتھ 46 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا۔ان کا کہنا تھا کہہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت سے بارڈر کنٹرول میکانزم کو باضابطہ بنانے کے لیے رابطہ کر رہا ہے تاکہ پاک افغان سرحد پر ‘عدم استحکام’ سے نمٹا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انٹیلی جنس شیئرنگ کا طریقہ کار بھی تجویز کیا تاہم ان اقدامات پر ‘بہتر جواب نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فوجی سطح پر بھی رابطہ کر رہا ہے، پاکستان کی عسکری قیادت کی طرف سے کئی اعلی سطحی دورے ہوئے جن میں چیف آف آرمی سٹاف کے چار دورے بھی شامل تھے ۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہم نے افغان سپیشل فورس کو ٹریننگ کی پیشکش کی تھی لیکن صرف 6 افغان کیڈٹ افسر ٹریننگ کے لیے پاکستان آئے، ہزاروں افغان اہلکار بھارت سے ٹریننگ لیتے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشکش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں یقین ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن سے براہ راست جڑا ہوا ہے ۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان کے حالات کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا بڑا منصوبہ تھا۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا 90 فیصد جبکہ ایرانی سرحد کے ساتھ 50 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے۔ سرحد پر 2 ہزار سے زائد پاکستانی چوکیاں موجود ہیں لیکن افغانستان کی صرف 350 چوکیاں تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے 2014 سے تیاریاں کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ‘2017میں بڑے پیمانے پر صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے تھے، آرمی چیف نے مشرقی سرحد کو محفوظ بنانے کا وژن دیا، ہم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے لیے 60 سے زائد نئے ونگ بنائے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی پر پاک فوج کے دستے تعینات ہیں۔ داسو، لاہور، کوئٹہ اور گوادر میں دہشتگردی واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کر دیا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے منفی کردار کے بارے میں دنیا کو بار بار خبردار کر رہا ہے جو کہ مسلسل ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کی مسلح افواج اپنی مغربی سرحد پر آپریشن کر رہے تھے، اس کی مشرقی سرحد پر جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے، یہ تمام کارروائیاں ناقابل تسخیر جذبے اور پوری قوم کی کوششوں کی عظیم قربانی کا مظہر ہیں جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)پر قابو نہیں پاسکتے تو پاکستان کیا اقدامات کرے گا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں پناہ گاہیں موجود ہیں۔تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔سوال کیا گیا کہ پاکستان کے حالات معمول پر آنے کی توقع ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم بہتری کی امید کر رہے ہیں، ہم نے اقدامات کیے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان حکومتی سطح پر خوشگوار تعلقات کی توقع رکھتا ہے پر امید ہونے کی وجوہات ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی دیگر ممالک کے ساتھ فوج سے فوج کا رابطہ نہیں ہے، تاہم بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول(ایل او سی)پر حملہ اور نگرانی کے لیے جنگلی جانوروں کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ دنیا ان کو اتنا نیچے گرنے کا ذمہ دار ٹھہرائے گی، ہم نگرانی کے ان ذرائع سے آگاہ ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اقدامات کر رہے ہیں ۔