پاکستانی درآمدکنندگان کا ڈیوٹی فری کاٹن اور کاٹن یارن امپورٹ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ

کراچی (ویب ڈیسک)

پاکستانی درآمدکنندگان نے حکومت سے ڈیوٹی فری کاٹن اور کاٹن یارن قلیل مدتی زمینی ٹرانسپورٹ روٹ کے ذریعے بزریعہ روڈ اور ریلوے انڈیا، ازبکستان اور ترکی سے امپورٹ کرنے کی سہولت اور اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔چیف کوآرڈینیٹر و سابق چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن محمد جاوید بلوانی نے زیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبد الرزاق دائود کو ارسال کردہ خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی توجہ ملک میں کاٹن اور کاٹن یارن کی قلت کی طرف مبذول کروائی ہے جس کی وجہ سے ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں ملک میں کاٹن یارن کی قیمتیں تقریباً 40تا70فیصد مختلف یارن کاونٹس یعنی 20سنگل، 30سنگل وغیرہ کی مد میں بڑھ چکی ہیں اور ان اضافی قیمتوں پر بھی معیاری کاٹن یارن دستیاب نہیں۔کاٹن یارن کے اس بحران کی وجہ سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرزاضطرابی کیفیت کا شکار ہیں کہ وہ نئے ایکسپورٹ آرڈرز حاصل کریں یا نہیں؟ایسی صورتحال میں ایکسپورٹ آرڈرز خطے کے دوسرے ممالک میں منتقل ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔سمندری راستے کاٹن یارن کی امپورٹ پر فریٹ چارجز میں تقریباً700فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور بحری جہازوں اور کنٹینرز کی وافر دستیابی نہ ہونے کے باعث جو شپمنٹ 45دن میں پاکستان پہنچتی تھی اب 90دنوں میں پہنچتی ہے۔اس تناظر میں انتہائی ضروری ہے کہ حکومت دیگر زرائع سے بھی ڈیوٹی فری کاٹن اور کاٹن یارن کی امپورٹ کی اجازت دے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کا خام مال ہے جس کی دستیابی نہ ہونے کے باعث پروڈکشن متاثر ہو رہی ہے۔ کم سے کم مدت میں زمینی ٹرانسپورٹ روٹ کے زریعے بزریعہ روڈ اور ریلوے انڈیا، ازبکستان اور ترکی سے کاٹن اور کاٹن یارن امپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ای سی او کے فریٹ ٹرین منصوبہ کے زریعے فریٹ ترکی سے پاکستان تقریباً 10دنوں میں پہنچ سکتا ہے جبکہ بذریعہ روڈ کارگو ترکی سے پاکستان تقریباً 72گھنٹوں یا 3دنوں میں آسکتا ہے۔ اسی طرح ازبکستان سے کاٹن یارن بزریعہ روڈ تقریباً48گھنٹوں یا 2دنوں میں امپورٹ کی جا سکتی ہے۔جبکہ انڈیا سے براستہ واہگہ بارڈر صرف چند گھنٹوں میں کاٹن اور کاٹن یارن پاکستان امپورٹ کی جا سکتی ہے۔حکومت نے انڈیا سے ادویات امپورٹ کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے ۔ اسی طرح کاٹن اور کاٹن یارن کو بھی انڈیا سے امپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔لہٰذا ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کے فروغ کی خاطر اور ملک کے وسیع تر مفاد میںحکومت ڈیوٹی فری کاٹن اور کاٹن یارن قلیل مدتی زمینی ٹرانسپورٹ روٹ کے زریعے بزریعہ روڈ اور ریلوے انڈیا، ازبکستان اور ترکی سے امپورٹ کرنے کی سہولت اور اجازت دے۔
#/S